شرح القصیدہ

by Other Authors

Page 188 of 198

شرح القصیدہ — Page 188

شرح القصيده ۱۸۸ -٢٩ مِنْ ذِكْرِ وَجْهِكَ يَا حَدِيقَةً بَهْجَتِى لَمْ اَخْلُ فِي لَحْرٍ وَ لَا فِي ان معانی الالفاظ - البنجةُ حسن تر و تازگی۔خوشی یا ظہور خوشی۔ترجمہ۔تیرے منہ کی یاد سے اے میرے مسرت کے باغ میں ایک آن اور ایک لحظہ بھی فارغ نہیں ہوتا۔شرح۔اس شعر میں مشہور محل لمن أحب شيئًا أكثر ذكره " كه انسان کو جس چیز سے محبت ہو اس کا بکثرت ذکر کرتا ہے۔آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم سے اپنی شرت محبت کا اظہار کیا ہے۔چشمى يَطِيرُ إِلَيْكَ مِنْ شَوْقٍ عَلَا يَا لَيْتَ كَانَتْ قُوَّةُ الطَّيَرَانِ ترجمہ۔میرا جسم شوق غالب کے سبب تیری طرف اُڑ نا چاہتا ہے۔کاش مجھ میں قوت پرواز ہوتی! شرح۔اس شعر میں مصنف قصیدہ نے اپنی وفور محبت اور کمال عشق کا نہایت خوش اسلوبی سے اظہار فرمایا ہے۔فرماتے ہیں اگر چہ رُوح کو رُوح سے