شرح القصیدہ — Page 190
شرح القصيده 190 اعتذار اس قصیدہ میں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے جن کمالات اور اوصاف عالیہ کا ذکر پایا جاتا ہے اس کی تفصیل اس مختصر شرح میں بیان کرنا ممکن نہ تھا، اس لئے میں اعتراف کئے بغیر نہیں رہ سکتا کہ جو شرح کا حق تھا وہ نہ مجھ سے ادا ہوا ہے اور نہ ادا ہو سکتا ہے۔مگر جس قدرلکھا بھی گیا ہے وہ بھی محض خدا تعالیٰ کے فضل سے ہے جس نے مجھے بیماری کی حالت میں اس کی توفیق بخشی۔فَالْحَمْدُ لِلهِ الَّذِي وَ فَقَنِي لِهَذَا - آخری بات جو میں لکھنا چاہتا ہوں وہ یہ ہے کہ اسلام کی تعلیم کا خلاصہ اور کپ کباب کلمہ طیہ لا إلهَ إِلَّا اللهُ مُحَمَّدٌ رَّسُولُ اللهِ یعنی توحید الہی اور رسالت محمد یہ ہے۔کلمہ طیبہ کی پہلی مجز جو توحید الہی پر مشتمل ہے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے ذریعہ جس رنگ میں اس کا ظہور ہوا اور جس طرح توحید الہی کی تعلیم پر آپ نے زور دیا اور اپنے قول و فعل سے خدا تعالیٰ کی عظمت و جبروت کا اظہار کیا اس کی نظیر پہلے کسی نبی میں نہیں ملتی۔آپ نے کھاتے پیتے ، آتے جاتے ، سوتے جاگتے ، لباس پہنتے ، ہر وقت اللہ تعالیٰ کا ذکر کیا۔آپ کو آبشاروں کے گرنے ، بجلیوں کے چمکنے ، بادلوں کے گرجنے ، آندھیوں کے طوفانوں اور بارشوں کے سیلابوں ، دریاؤں اور سمندروں کے اُتار چڑھاؤ ، زمین کے جھٹکوں اور زلزلوں سے پہاڑوں کے لرزنے میں خدائے واحد کا جلال نظر آتا تھا۔توحید الہی کی خاطر آپ نے سارے عرب کو اپنا دشمن بنالیا تھا۔آپ