شرح القصیدہ

by Other Authors

Page 150 of 198

شرح القصیدہ — Page 150

شرح القصيده ۱۵۰ نے فرما یا مَا مِنْ دَاءٍ إِلَّا لَهُ دَوَاءُ إِلَّا الْمَوْتَ کہ موت کے سواہر بیماری کا علاج موجود ہے۔یہ بات آپ نے ایسے وقت فرمائی جبکہ بہت سی بیماریاں لاعلاج خیال کی جاتی تھیں۔لیکن سالہا سال کی تحقیق کے بعد اب بعض لا علاج بیماریاں قابل علاج ثابت ہو گئی ہیں۔اسی طرح آپ نے بالہام الہى فرما يا خَلَقَ لَكُمْ مَّا فِي الْأَرْضِ جميعًا (البقرة: ۳۰) اور رَبَّنَا مَا خَلَقْتَ هَذَا بَاطِلًا (ال عمران : ۱۹۲) که دنیا کی ہر چیز انسان کے فائدہ کے لئے پیدا کی گئی ہے۔چنانچہ اس زمانہ میں بہت سی ان چیزوں کے فوائد معلوم کر لئے گئے ہیں جو پہلے محض ضرر رساں خیال کی جاتی تھیں۔حضرت مسیح موعود علیہ السلام فرماتے ہیں ؎ بر لبش جاری از حکمت چشمه در دلش پر از معارف کوثرے اُمّی و در علم و حکمت بے نظیر زیں چہ باشد حجتے روشن ترے ( براہین احمدیہ حصہ اوّل روحانی خزائن جلد ۱ صفحه ۱۹۹۱۸) یعنی اُس کے منہ سے حکمت کا چشمہ جاری ہے اور اس کا دل معارف سے پر ایک کوثر ہے۔وہ آتی ہے مگر حکمت میں بے نظیر ہے۔اس سے زیادہ اس کی صداقت پر اور کیا دلیل ہوگی۔۵۴- قد مَاتَ عِيسَى مُطرِقًا وَ نَبِيُّنَا حتى وَ رَبِّي إِنَّهُ وَافَانِي معانی الالفاظ۔وَ افَانِي - وافی مَوَافَاةٍ حَقَّهُ یعنی اس کا حق اُسے