شرح القصیدہ — Page 151
شرح القصيده ۱۵۱ پورا پورا دے دیا۔وَ افَى الْمَكَانَ۔اس جگہ آیا۔وافانی کے یہ معنے ہیں کہ انہوں نے اپنی شرف ملاقات سے نوازا۔ترجمہ۔حضرت عیسی علیہ السلام تو چپ چاپ اپنا سر جھکائے وفات پاگئے اور ہمارے نبی صلی اللہ علیہ وسلم زندہ ہیں۔اور بخدا انہوں نے مجھے اپنی شرف ملاقات سے بھی نوازا ہے۔شرح۔پہلے اشعار میں یہ بتایا گیا ہے کہ انبیاء سابق تو ایک ہلکی بارش کی مانند آپ کے ظہور کی جو بڑی بارش کی مانند تھا ایک علامت تھے اور جامع جمیع کمالات انبیاء صرف آپ ہی کی ذات رفیع الدرجات تھی۔اس پر یہ سوال پیدا ہوتا ہے کہ عیسائیوں کا یہی عقیدہ حضرت مسیح کے متعلق ہے۔وہ انہیں تمام انبیاء سے افضل اور خاتم النبیین کے ل آيت أو كَصَيْبٍ مِّنَ السَّمَاءِ (البقرة :۲۰) میں اسلام اور آپ کے ظہور کو موسلا دھار بارش سے تشبیہ دی گئی ہے۔سے دیکھور سالہ خاتم النبیین مؤلفہ پادری بوٹامل۔جسے پنجاب ریلیجس بک سوسائٹی نے بار دوم ۱۸۵۳ء میں شائع کیا۔اس میں مؤلّف لکھتا ہے وحی آسمانی کی امانت کے لئے صرف بنی اسرائیل ہی مخصوص ہیں اور خاتم النبیین کا ظہور بھی اسی موعود نسل سے ہونے والا تھا اور وہ آخری نبی یسوع مسیح ہے۔۔۔۔۔۔۔اسی آخری نبی نے سلسلہ نبوت اور الہام پر یہ کہہ کر مہر کر دی کہ تمام ہوا۔(صفحہ ۵) اور دنیا کے ایمان کی آزمائش کے لئے مسیح خداوند کی دوسری آمد تک جھوٹے نبیوں کے لئے میدان خالی چھوڑ گئے" (صفحہ ۱۰) پس ہماری تحقیق نے ہمیں مجبور کیا ہے کہ ہم دنیا میں اس بات کا اعلانیہ اظہار کریں کہ توریت اور نبیوں اور انجیل مقدس میں مسیح خدا وند اور اس کے حواریوں کے بعد کسی بچے نبی کی آمد کی کوئی خبر نہیں ہے۔اس لئے مسیح اور اس کے حواریوں کے بعد کسی کا دعوی نبوت حق اور قابل وثوق نہیں۔“ (صفحہ ۲۱)۔