شرح القصیدہ

by Other Authors

Page 122 of 198

شرح القصیدہ — Page 122

شرح القصيده امور اسی شان کے ساتھ چمکتے ہیں۔۱۲۲ شرح۔پہلے مصرعہ کے معنے لغت کے لحاظ سے یہ بھی ہو سکتے ہیں کہ اُس کی رضا میں اللہ تعالیٰ کی رضا ظاہر ہے اور اس کی ذات اللہ تعالیٰ کی ذات کی مظہر ہے اور اس کے تمام عظیم الشان کاموں میں یہی شان دکھائی دیتی ہے۔اس شعر میں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی ایک اور فضیلت کا ذکر فرمایا ہے کہ آپ اللہ تعالیٰ کی ذات کے کامل مظہر ہیں۔انبیائے سابقین اور صالحین علی قدر المراتب مظہر صفات الہیہ بنے لیکن اُن میں سے کوئی اُس کی صفات کا کامل مظہر نہ ہوا۔کامل مظہر صرف آپ ہی تھے۔سورۃ فاتحہ میں اللہ تعالیٰ کی چار عظیم الشان صفات کا ذکر ہے۔مالکیت ، رحیمیت ، رحمانیت اور رب العالمین ہونا۔ظاہر ہے کہ آپ سے پہلے جس قدر انبیاء آئے وہ خاص خاص قوم یا علاقے کے لئے مبعوث ہوئے تھے ، وہ ان چاروں صفات کے مظہر بنے لیکن نہ کامل طور پر بلکہ جزوی لحاظ سے۔مثلاً وہ صفت ربوبیت کے مظہر تھے لیکن صفت رب العالمین کے مظہر نہ تھے کیونکہ وہ تمام قوموں کے لئے مبعوث نہ ہوئے تھے۔اُن کی بعثت کا زمانہ بھی محدود تھا۔لیکن آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم تمام قوموں اور تمام آئندہ آنے والے زمانوں کے لئے مبعوث ہوئے اس لئے آپ ہی صفت ربّ العالمین کے کامل مظہر ہوئے۔یہی صورت بقیہ صفات کی ہے۔مثلاً صفت رحمانیت کے ماتحت اللہ تعالیٰ نے جو چیز میں سورج، چاند ، ہوا ، آسمان وزمین وغیرہ پیدا کی ہیں وہ ایسی ہیں جن سے سب کا فرو مومن یکساں مستفید ہوتے ہیں۔اسی طرح آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم برخلاف پہلے انبیاء کے تمام دنیا کے لئے مبعوث ہوئے اور آپ کی روشنی اور آپ کا