شرح القصیدہ — Page 123
شرح القصيده ۱۲۳ نور سورج کے ٹور کی طرح کسی خاص قوم تک محدود اور آپ کا فیض کسی جہت اور مکان و زمان سے مخصوص نہیں بلکہ تمام لوگوں کے لئے عام علی سبیل الدوام جاری ہے اور کبھی منقطع نہ ہو گا۔اُن کے لئے بھی جو اہل کتاب تھے اور اُن کے لئے بھی جن کے پاس کوئی کتاب نہ تھی۔لیکن آپ سے پہلے جس قدر نبی آئے وہ اللہ تعالیٰ کی ذات کے کامل مظہر نہ ہوئے۔اسی لئے مسیح علیہ السلام نے صرف بنی اسرائیل سے خطاب کیا اور فرمایا کہ میں اسرائیل کی کھوئی ہوئی بھیڑوں کے لئے مبعوث ہوا ہوں۔دوسری قومیں جو اس وقت فلسطین میں موجود تھیں اُن کو اُن کی حالت کے لحاظ سے سور اور کتے تو قرار دیا لیکن تبلیغ نہیں کی۔اسی طرح حضرت موسیٰ علیہ السلام نے بھی اپنا دائرہ تبلیغ بنی اسرائیل تک محدود رکھا۔لیکن آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے ہر قوم اور ہر ملک کے لوگوں کو تبلیغ کی۔قیصر روم کو بھی دعوت دی، کسر مٹی کو بھی ، مصر اور دیگر ممالک کے بادشاہوں کو بھی تبلیغی خطوط لکھے۔کیونکہ اللہ تعالیٰ نے آپ کو یہ شان عطا فرمائی تھی کہ ے آفتاب ہر زمین و هر زمان رہبر ہر اسود و ہر احمرے براہین احمدیہ حصہ اوّل روحانی خزائن جلد اصفحہ ۱۹) اسی طرح اللہ تعالیٰ کی ذات کے صرف آپ ہی مظہر بنے۔مصنف قصیدہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام فرماتے ہیں۔زاں نمط شد محو دلبر کز کمال اتحاد پیکر او شد سراسر صورت ربّ رحیم بوئے محبوب حقیقی مید ہدزاں روئے پاک ذات حقانی صفاتش مظہر ذات قدیم توضیح مرام روحانی خزائن جلد ۳ صفحه ۶۲)