شرح القصیدہ — Page 80
شرح القصيده ۸۰ اونٹوں پر آدمی نہیں بلکہ موتیں سوار دیکھی ہیں۔یعنی ان میں سے ہر ایک شخص مرنے کے لئے میدان میں آیا ہے۔زندہ واپس جانے کے لئے نہیں آیا۔پھر میدانِ جنگ میں صحابہ کے عشق و محبت کا مظاہرہ بھی محیر العقول ہے۔غزوہ اُحد میں جب مسلمانوں کی فتح کے بعد ایک جماعت کی غلطی کے نتیجہ میں بظاہر شکست کا منظر پیش آیا اور کفار تیر انداز ٹیلوں پر چڑھ کر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف بے تحاشا تیر برسانے لگے تو حضرت طلحہ نے یہ دیکھ کر اپنا ہاتھ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے چہرے کے آگے کر دیا۔تیر کے بعد تیر حضرت طلحہ کے ہاتھ پر لگتا تھا مگر وہ جانباز اور وفادار صحابی اپنے ہاتھ کو کوئی حرکت نہ دیتا تھا۔تیر پڑتے گئے اور حضرت طلحہ کا ہاتھ زخموں کی وجہ سے بے کار ہو گیا اور صرف ایک ہی ہاتھ اُن کا باقی رہ گیا۔سالہا سال بعد حضرت علی کی خلافت کے زمانے میں جب مسلمانوں میں خانہ جنگی ہو رہی تھی کسی دشمن نے طنز کے طور پر حضرت طلحہ کو ٹنڈا کہہ دیا۔اس پر ایک دوسرے صحابی نے کہا ہاں وہ ٹنڈا تو ہے مگر کیسا مبارک ٹنڈا ہے۔تمہیں معلوم ہونا چاہیے کہ طلحہ کا ہاتھ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے چہرہ مبارک کی حفاظت میں ٹنڈا ہوا تھا۔جنگ اُحد کے بعد ایک شخص نے آپ سے دریافت کیا کہ جب تیر آپ کے ہاتھ پر لگتے تھے تو کیا آپ کو درد نہیں ہوتا تھا اور کیا آپ کے منہ سے اُف نہیں نکلتی تھی؟ حضرت طلحہ رضی اللہ عنہ نے جواب دیا کہ درد بھی ہوتا تھا اور اُف بھی نکلنا چاہتی تھی لیکن میں اس ڈر سے اُف نہیں کرتا تھا کہ مبادا اُف کرتے وقت میرا ہاتھ ہل جائے اور تیر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے چہرہ پر آ لگے۔ایک اور عاشق رسول کا واقعہ ہے کہ جب غزوہ اُحد میں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم