شرح القصیدہ — Page 79
شرح القصيده ۷۹ قلب میں داخل ہو گئی۔الشَّغْفُ : أَقْصَى الْحُتِ انتہائی محبت۔الْقُرْبَانُ : كُلُّ مَا يُتَقَرَّبُ بِهِ إِلَى اللهِ تَعَالَى مِنْ ذَبِيحَةٍ وَ غَيْرُهَا - ہر چیز جس سے تقرب الہی مطلوب ہوذ بیجہ وغیرہ۔ترجمہ نمبر ۱۸۔وہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی پیش قدمی کے ساتھ یا آپ کے حکم آگے بڑھو پر میدان جنگ میں ایک عاشق صادق کی مانند دشمن کے مقابلے میں ڈٹ گئے۔ترجمہ نمبر ۱۹۔سوان جواں مردوں کے خون محبت میں صادق ہونے کے باعث تلواروں کے نیچے قربانیوں کی طرح بہائے گئے۔شرح۔ان دونوں شعروں میں صحابہ کی رسول اللہ صل اللہ علیہ وسلم کی کامل اطاعت اور اُن کی میدانِ جنگ میں ثابت قدمی اور اُن کے اپنے نفسوں کی قربانی کا ذکر ہے۔گوجنگ بدر میں مسلمان سپاہیوں کی تعداد ۳۱۳ تھی اور دشمن کی تعداد ایک ہزار تھی لیکن مسلمان سپاہیوں کی اپنے صدق اور اخلاص اور عشق و محبت کی وجہ سے جو حالت تھی وہ دشمن کے ایک بدوی سردار عمیر بن وہب کی زبانی سنیے جو مسلمانوں کی تعداد کا اندازہ لینے کے لئے متعین ہوا تھا۔جب اُس نے کفار مکہ کو خبر دی کہ مسلمان تین سوا تین سو کے قریب ہوں گے اور کفار نے خوشی کا اظہار کیا تو اُس نے کہا۔اے مکہ والو! میرا مشورہ یہی ہے کہ تم ان لوگوں سے مقابلہ نہ کرو۔کیونکہ میں نے