شرح القصیدہ — Page 81
شرح القصيده ΔΙ زخمی ہو کر ایک گڑھے میں گر گئے اور آپ کے ارد گر دلڑتے ہوئے بہت سے صحابہ شہید ہوئے ، ان میں سے آپ کی حفاظت کرنے والے صحابہ کی لاشیں آپ پر آگریں جن سے آپ کا جسم مبارک چھپ گیا۔اس پر کفار نے شور ڈال دیا کہ آپ مقتل کر دیئے گئے۔حضرت عمر رضی اللہ عنہ اس غم سے ایک پتھر پر بیٹھے ہوئے زار زار رو ر ہے تھے کہ حضرت مالک جن کو فتح کے بعد پیدا ہو جانے والے حالات کا کوئی علم نہیں تھا اور اس خیال میں تھے کہ ہم کو فتح حاصل ہو چکی ہے کھجوریں کھاتے ہوئے اُدھر سے گزرے اور حضرت عمرؓ سے رونے کا سبب پوچھنے پر یہ جواب سنا کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم شہید ہو گئے ہیں تو بولے کہ اگر یہ خبر صحیح ہے تو آپ یہاں بیٹھے رو کیوں رہے ہیں جس دنیا میں ہمارا محبوب گیا ہے ہم کو بھی اُسی میں جانا چاہئے۔اس کے بعد وہ آخری کھجور جو اُن کے ہاتھ میں تھی اور جسے وہ منہ میں رکھنا چاہتے تھے یہ کہ کر کہ مالک اور جنت کے درمیان تیرے سوا اور کونسی چیز روک ہے وہ کھجور ہاتھ سے زمین پر پھینک دی اور تلوار کھینچ کر قریباً تین ہزار کفار کے لشکر میں گھس گئے اور اس طرح سر ہتھیلی پر رکھ کر جنگ کی کہ دشمن دنگ رہ گیا۔آپ اسی آن بان اور جوش و خروش سے لڑتے ہوئے زخمی ہوکر گرے۔لیکن اس حالت میں بھی قریب آنے والوں پر وار پر وار کئے جاتے تھے۔آخر بہت سے کفار نے آپ پر یک دفعہ ایسی تلوار برسائی کہ جسم پارہ پارہ ہو گیا۔جنگ کے بعد آپ کی لاش کے ستر ٹکڑے ہو جانے کی وجہ سے پہچانی نہ جاتی تھی۔ایک انگلی کے نشان کی بناء پر آپ کی ہمشیرہ نے بتایا کہ یہ میرے بھائی کی لاش ہے۔جنگوں میں صحابہ کی محبت و فدائیت ، خلوص و وفا اور صدق وصفا کی مثالیں اتنی کثیر ہیں جن کے لئے یہ مختصر تحریر کافی نہیں۔