شرح القصیدہ — Page 187
شرح القصيده ۱۸۷ اس زمانہ میں احیائے دین کی خدمت پر مامور کیا گیا۔آپ فرماتے ہیں کہ:۔ایک مرتبہ الہام ہوا جس کے معنے یہ تھے کہ ملاء اعلیٰ کے لوگ خصومت میں ہیں۔یعنی ارادہ الہی احیاء دین کے لئے جوش میں ہے لیکن ہنوز ملاء اعلیٰ پر شخص محیی کی تعین ظاہر نہیں ہوئی اس لئے وہ اختلاف میں ہے۔اسی اثناء میں خواب میں دیکھا کہ لوگ ایک محیی کو تلاش کرتے پھرتے ہیں اور ایک شخص اس عاجز کے سامنے آیا اور اشارہ سے اُس نے کہا هُذَا رَجُلٌ يُحِبُّ رَسُولُ اللهِ۔“ یعنی یہ وہ آدمی ہے جو رسول اللہ سے محبت رکھتا ہے اور اس قول سے یہ مطلب تھا کہ شرط اعظم اس عہدہ کی محبت رسول ہے۔سو وہ اس شخص میں متحقق ہے۔“ ( براہین احمدیہ حصہ چہارم روحانی خزائن جلد ا صفحه ۵۹۸ حاشیه در حاشیہ نمبر ۳) ایک اور عربی قصیدہ میں آپ فرماتے ہیں:۔أَنْتَ الَّذِي شَغَفَ الْجَنَانُ بِحْتِهِ أَنْتَ الَّذِي كَالرُّوحِ فِي حَوْبَائِي أنتَ الَّذِي بِعِدَادِهِ وَ بِحُبِّهِ أَيَّدُتُ بِالْإِلْهَامِ وَ الْأَلْقَاءِ تو وہ ہے جس کی محبت سے میرا دل معمور ہے۔تو میری جان میں بمنزلہ رُوح کے ہے۔تو وہ ہے جس کی محبت والفت کے باعث میں الہام اور القاء الہی سے تائید کیا گیا ہوں۔