شرح القصیدہ

by Other Authors

Page 186 of 198

شرح القصیدہ — Page 186

شرح القصيده ۱۸۶ ترجمہ۔مجھ پر رحم اور محبت و شفقت کی نظر کیجئے۔اے میرے آقا! میں ایک نا چیز غلام ہوں۔- يَا حِبْ إِنَّكَ قَد دَخَلْتَ مَحَبَّةٌ في مُهْجَتِي وَ مَدَارِي وَ جَنَانِي معانی الالفاظ - المُهْجَةُ - خون خونِ دل - مُهْجَةُ كُلُّ شَيْءٍ - ہر چیز کا خالص اور بہترین حصہ۔اس کی جمع مُهَجٌ اور مُهَجَاتٌ ہے۔مَدَارِكُ - حواس ، اور وہ پانچ ہیں۔جنان۔دل۔ترجمہ۔اے میرے پیارے! تیری محبت میرے خون میں ، میری جان میں ، میرے حواس اور میرے دل میں رچ گئی ہے۔شرح۔اس شعر میں کمال محبت کا اظہار کیا گیا ہے اور اس سے پتہ لگتا ہے کہ آپ کی محبت تصنع اور تکلف سے نہیں بلکہ طبعی اور ائم اور اکمل درجہ کو پہنچی ہوئی ہے۔گویا آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم شدت جذب محبت سے آپ کے دل اور آپ کی جان اور آپ کے رگ وریشہ میں داخل ہو چکے ہیں۔حقیقت یہی ہے کہ سچی محبت کرنے والا اپنے محبوب میں فنا ہو جاتا ہے اور ایسی تصویر اس کی اپنے اندر کھینچتا ہے کہ گویا اُسے پی جاتا ہے یا کھا جاتا ہے یا اُسے اپنے وجود میں داخل کر لیتا ہے۔یہی حال حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی محبت کا ہے اور آپ کی یہی محبت خدا تعالیٰ کو پسند آئی کہ آپ کو