شرح القصیدہ — Page 162
شرح القصيده ۱۶۲ رقیب ونگران تھا۔اور یہ کہا جائے گا کہ جب سے تو ان سے جُدا ہوا وہ اُس وقت سے مرتد ہو گئے تھے۔اس حدیث سے حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے قول فَلَمَّا تَوَفَّيْتَنِی کی تشریح ہو گئی اور ظاہر ہو گیا کہ جیسے مرتد ہونے والے صحابی آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات کے بعد مرتد ہوئے اسی طرح عیسائیوں میں الوہیت مسیح کا عقیدہ حضرت عیسی علیہ السلام کی وفات کے بعد پھیلا۔لہذا اس آیت سے قطعی اور یقینی طور پر ثابت ہو گیا کہ حضرت عیسی علیہ السلام زندہ نہیں بلکہ وفات یافتہ ہیں۔دوسری آیت وَ مَا مُحَمَّدٌ إِلَّا رَسُولٌ قَدْ خَلَتْ مِنْ قَبْلِهِ الرُّسُلُ أَفَائِنَ مَّاتَ أَوْ قُتِلَ انْقَلَبْتُمْ عَلَى أَعْقَابِكُمْ (آل عمران:۱۴۵) یعنی محمد ( صلی اللہ علیہ وسلم) صرف ایک رسول ہیں۔آپ سے پہلے کے سب رسول فوت ہو چکے ہیں۔پس اگر آپ بھی فوت ہو جا ئیں یا قتل کئے جائیں تو کیا تم اپنی ایڑیوں پر پھر جاؤ گے؟ اس آیت میں اللہ تعالیٰ نے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم سے پہلے تمام رسولوں کی نسبت جن میں حضرت عیسی علیہ السلام بھی شامل ہیں وفات پا جانے کی خبر دی ہے۔اور رسولوں کے دنیا سے گزرجانے کے صرف دو طریق قرار دیئے ہیں ، موت اور قتل۔اگر کوئی تیسری صورت گزرنے کی ہوتی جیسے آسمان پر چلے جانا ، تو اس کا بھی اِس آیت میں ذکر ہوتا۔پس اس آیت سے بھی حضرت عیسی علیہ السلام کی وفات ثابت