شرح القصیدہ — Page 161
شرح القصيده ۱۶۱ اس آیت سے قطعی طور پر حضرت عیسی علیہ السلام کی وفات ثابت ہوتی ہے کیونکہ اس آیت میں بتایا گیا ہے کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام اللہ تعالیٰ کے سامنے اپنے دو زمانوں کا ذکر کریں گے۔قوم میں موجودگی کا زمانہ اور عدم موجودگی کا زمانہ ان دنوں زمانوں کے درمیان توفیتنی یعنی وفات بطور حد فاصل ہے جس کا صاف مطلب یہ ہے کہ حضرت عیسی" کے اپنی قوم سے جدا ہونے کا باعث ان کی وفات ہے جس سے صاف ظاہر ہے کہ وہ وفات پاچکے ہیں۔اس استدلال کی صحت اُس حدیث سے بھی ہوتی ہے جو حضرت امام بخاری نے اس آیت کی تفسیر کرنے کے لئے اپنی صحیح میں درج کی ہے اور وہ یہ ہے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ حشر کے دن میرے چند صحابہ پکڑ کر لے جائے جائیں گے تو میں کہوں گا کہ یہ میرے صحابہ ہیں۔" فَيُقَالُ إِنَّكَ لَا تَدْرِى مَا أَحْدَثُوا بَعْدَكَ فَأَقُولُ كَمَا قَالَ الْعَبْدُ الصَّالِحُ وَكُنْتُ عَلَيْهِمْ شَهِيدًا مَّا دُمْتُ فِيهِمْ فَلَمَّا تَوَفَّيْتَنِي كُنْتَ أَنْتَ الرَّقِيْبَ عَلَيْهِمْ) فَيُقَالُ إِنَّ هُوَ لَاءِ لَمْ يَزَالُوا مُرْتَدِيْنَ عَلَى أَعْقَابِهِمْ 66 (بخاری کتاب التفسیر، تفسير سورة المائدة آیت نمبر (۱۱۸) تو یہ کہا جائے گا کہ تجھے معلوم نہیں کہ انہوں نے تیرے بعد کیا کچھ کیا اور کیا کیا بدعات نکالیں۔آپ فرماتے ہیں تو میں وہی قول کہوں گا جو کہ عبد صالح ( یعنی حضرت عیسی علیہ السلام) کا قرآن مجید کی اس آیت میں مذکور ہے کہ میں اس قوم پر نگران اور شہید تھا جب تک اُن میں رہا لیکن جب تو نے مجھے وفات دے دی تو تو ہی اُن پر