شرح القصیدہ — Page 147
شرح القصيده ۱۴۷ صلی اللہ علیہ وسلم کا ظہور ہونے والا ہے۔اه بطل وَحِيْلٌ لَا تَطِيشُ سِهَامُهُ ذُو مُصْيَاتٍ مُؤ بِقُ الشَّيْطن معانی الالفاظ - بطل - پہلوان - الَّذِي تَبَطَلَ عِنْدَهُ الدِّمَاءُ وَ تَذْهَبَ هَدَدًا۔یعنی جس سے خون کا بدلہ نہیں لیا جا سکتا۔اور اس کے یہ معنے بھی کئے جاتے ہیں۔جس تک پہنچنے کے تمام حیلے ناکام ہو جاتے ہیں۔مُضیات۔مُصْمِيَّةٌ کی جمع ہے۔اضمی سے اسم فاعل ہے۔اضمَى الصَّيْدَ کے معنے ہیں شکار کو تیر چلا کر اس کی جگہ اُسے مار گرایا اس حال میں کہ وہ اُسے دیکھتا ہو۔مُوبِقٌ - أَوبَق سے اسم فاعل کا صیغہ ہے۔اوبقہ کے معنے ہیں اُسے ہلاک کر دیا۔ترجمہ۔آپ ہی ایک پہلوان ہیں جس کے تیر کبھی خطا نہیں جاتے۔آپ کبھی نشانہ خطا نہ کرنے والے مہلک تیروں کے مالک اور شیطان کے ہلاک کنندہ ہیں۔شرح۔اللہ تعالیٰ نے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کو اسی بیت اور ایسا رعب عطا فرمایا تھا کہ دشمن کو مقابلہ کرنے کی ہمت نہیں پڑتی تھی۔ایک دفعہ ابوجہل نے جو کہ مکہ والوں میں بہادر مانا جاتا تھا ایک شخص کا کچھ روپیہ دینا تھا اور ادانہیں کرتا تھا۔مکہ والوں میں سے بعض نے اُس سے کہا کہ تم محمد (صلی اللہ علیہ وسلم) کے پاس جاؤ۔یہ ایک شرارت تھی۔اُن کا مقصد یہ تھا کہ اگر آپ اس کے ساتھ نہ جائیں گے تو