شرح القصیدہ

by Other Authors

Page 148 of 198

شرح القصیدہ — Page 148

شرح القصيده ۱۴۸ حلف الفضول کی قسم توڑنے والے قرار پائیں گے اور اگر چلے گئے تو ایذا اٹھائیں گے۔جب وہ قرض خواہ آپ کی خدمت میں حاضر ہوا اور عرض کی تو آپ بلا تامل اس کے ساتھ ہو لئے اور ابو جہل کے دروازے پر جا پہنچے۔جب دستک دینے پر وہ باہر آیا تو آپ نے اُسے فوراً قرض ادا کر دینے کی طرف توجہ دلائی۔اور اس نے بلا چون و چرا اُسی وقت اُس کا قرض ادا کر دیا۔رؤسائے مکہ نے اس کو ملامت کی کہ تم ہم سے تو یہ کہا کرتے تھے کہ محمد (صلی اللہ علیہ وسلم ) کو تنگ کرو اور اس کی کوئی بات نہ مانو اورخوداس کی بات مان لی۔ابو جہل نے جوابا کہا کہ خدا کی قسم اگر تم میری جگہ ہوتے تو تم بھی یہی کرتے۔میں نے دیکھا کہ محمد (صلی اللہ علیہ وسلم) کے دائیں اور بائیں دومست اونٹ کھڑے ہیں جو میری گردن مروڑ کر مجھے ہلاک کرنا چاہتے ہیں۔(ابن ہشام جلدا ) آپ جو حق کا رعب رکھتے تھے وہ شرارت کی رُوح کو کچل دیتا تھا۔اور دوسرے کو صدق کے آگے سر جھکانا پڑتا تھا۔-٥٢ هُوَ جَنَّةٌ إِنِّي أَرَى اثْمَارَةَ ود و قطوفَهُ قَد ذُلّلَتْ لِجَنَانِي معانی الالفاظ۔اتمار۔ثَمرن کی جمع ہے۔پھل۔قطوف۔قِطف کی جمع ہے۔خوشہ یا گچھا۔اس کی جمع قطاف بھی ہے۔ذُلّلتْ - ذُلِلَ الْكَرَمُ کے معنے ہیں۔اس کے گچھے لٹکے ہوئے ہیں۔