شرح القصیدہ

by Other Authors

Page 110 of 198

شرح القصیدہ — Page 110

شرح القصيده الْأَنْصَارُ شِعَارِي وَالنَّاسُ دِثَارِي حُحمق کم عقلی۔الشرحَانُ۔بھیڑیا یا شیر۔اس کی جمع سرامح اور ستر احين ہے۔ترجمہ۔جہالت سے دو عیب ان کے شامل حال تھے۔اڑ گدھے کی اور حملہ بھیڑ یئے کا۔شرح۔آخری دو شعروں میں آپ نے عرب قوم کی بعض حمد نی برائیوں کے اسباب و علل کا ذکر فرمایا ہے۔مولانا الطاف حسین حالی مرحوم نے ان برائیوں کا ذکر مسدس میں یوں کیا ہے۔چلن اُن کے جتنے تھے سب وحشیانہ ر اک ٹوٹ اور مار میں تھا یگانہ فسادوں میں کتنا تھا اُن کا زمانہ نہ تھا کوئی قانون کا تازیانہ وہ تھے قتل و غارت میں چالاک ایسے درندے ہوں جنگل میں بے باک جیسے نہ ٹلتے تھے ہرگز جو اڑ بیٹھتے تھے سلجھتے نہ تھے جب جھگڑ بیٹھتے تھے جو دو شخص آپس میں لڑ بیٹھتے تھے تو صدہا قبیلے بگڑ بیٹھتے تھے بلند ایک ہوتا تھا گر واں شرارا تو اُس سے بھڑک اُٹھتا تھا ملک سارا