شرح القصیدہ — Page 111
شرح القصيده وہ بکر اور کے تغلب کی باہم لڑائی صدی جس میں آدھی انہوں نے گنوائی قبیلوں کی کر دی تھی جس نے صفائی تھی اک آگ ہر سُو عرب میں لگائی نہ جھگڑا کوئی ملک و دولت کا تھا وہ کرشمہ اک ان کی جہالت کا تھا وہ کہیں تھا مویشی چرانے پہ جھگڑا کہیں پہلے گھوڑا بڑھانے پہ جھگڑا لپ جو کہیں آنے جانے پہ جھگڑا کہیں پانی پینے پلانے پہ جھگڑا یونہی روز ہوتی تھی تکرار اُن میں یونہی چلتی رہتی تھی تلوار اُن میں جوا اُن کی دن رات کی دل لگی تھی شراب اُن کی گھٹی میں گویا پڑی تھی تعیش تھا غفلت تھی دیوانگی تھی غرض ہر طرح اُن کی حالت بری تھی بہت اس طرح اُن کو گزری تھیں صدیاں کہ چھائی ہوئی نیکیوں پر تھیں بدیاں لے بکر اور تغلب عرب کے دو قبیلوں کا نام ہے جن کے درمیان یہ لڑائی ہوئی تھی اور اس جنگ کو حرب بسوس اس لئے کہتے تھے کہ بکر خاندان کی ایک عورت کے ہاں جس کا نام بسوس تھا ایک مہمان آیا۔اس مہمان کی اونٹنی چرتی ہوئی گلیب کی چراگاہ میں جو خاندان بنی تغلب سے تھا چلی گئی اور کلیب نے اس کے تھنوں کو تیر سے زخمی کر دیا۔یہ بات بنی بکر کو نا گوار خاطر ہوئی اور ان میں سے ایک شخص مُهَلهَل نے گلیب کو بر چھے سے مار ڈالا۔اس سے دونوں قبیلوں میں جنگ چھڑ گئی جو عرصہ تک قائم رہی۔