شرح القصیدہ — Page 109
شرح القصيده 109 شرح۔مذکورہ بالا تینوں شعروں میں انہی تینوں برائیوں کا مختلف پیرایوں میں ذکر کیا گیا ہے جن کی تفصیل او پر گزر چکی ہے۔كَانُوا كَمَشْغُوفِ الْفَسَادِ بِجَهْلِهِمْ رَاضِينَ بِالْأَوْسَاحُ وَ الْأَدْرَانِ معانی الالفاظ۔اوساخ۔وسع کی جمع ہے۔اخران - کرن کی جمع ہے میل کچیل۔ترجمہ۔وہ اپنی بے وقوفی اور جہالت سے فساد کے شیفتہ تھے اور میل کچیل اور نا پا کی پر خوش تھے۔-٣٧ عَيْبَانِ كَانَ شِعَارَهُمْ مِنْ جَهْلِهِمْ تحمق الْحِمَارِ وَ وَثْبَةُ اليَرحَانِ معانی الالفاظ - شعار : بیٹ اللَّيْلِ’واج ورڈ کو کہتے ہیں۔یعنی وہ کلمہ جس کے ساتھ دوست اور دشمن کی تمیز کی جاتی ہے۔جنگ یا سفر میں کوئی علامت جو مقرر کر لی جائے۔جسم کے ساتھ لگے ہوئے لباس کو بھی کہتے ہیں۔اس کے مقابل کا لفظ دگار ہے۔اوپر کا کپڑا انہیں معنوں میں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا۔