شرح القصیدہ — Page 99
شرح القصيده ۹۹ آنے کو تھی کہ اعلان کرنے والے نے اعلان کیا کہ اللہ تعالیٰ کے حکم سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے شراب پینا ممنوع قرار دے دیا ہے۔محفل میں سے ایک نص اُٹھ کر بولا کہ یہ شراب کی ممانعت کا حکم معلوم ہوتا ہے۔ٹھہر جاؤ معلوم کر لیں۔اس پر ایک اور شخص اٹھا اور اس مٹکے کو جوشراب سے بھرا ہوا تھا ٹکڑے ٹکڑے کر دیا اور کہا کہ پہلے حکم کی تعمیل کرو اور پھر دریافت کرو۔(بخاری کتاب الاشربه ) حدیث میں یہ بھی آیا ہے کہ جس دن شراب کے حرام ہونے کا اعلان کیا گیا اُس دن مدینہ کی گلیوں میں شراب پانی کی طرح بہہ رہی تھی۔جن مسلمانوں نے یہ اعلان سنا تھا اُس کے بعد اُنہوں نے کبھی شراب نہیں پی اور آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کا محض ایک اعلان ہی عرب قوم سے شراب نوشی جیسے حمد نی مزمن مرض کو معدوم کرنے کے لئے کافی ہوا۔اس اعلان سے شراب خانے ویران اور شراب کی د کا نہیں مقفل ہو گئیں اور نہ شراب کشیدگی باقی رہی اور نہ شراب نوشی۔یہ فوری انقلاب جو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی تاثیر قوت قدسیہ سے ظہور میں آیا ایسا عظیم الشان و رفیع القدر انقلاب ہے جس کی نظیر نہ آپ سے پہلے کی اقوامِ عالم میں پائی گئی ہے نہ آپ کے بعد پیدا ہونے والی کسی قوم میں۔-۲۸ كَمْ شَارِبِ بِالرَّشْفِ دَنَّا طَافِحًا لجعلته في الدِّينِ كَالنَّفَوَانِ معانی الالفاظ - التشف۔ہونٹوں سے چوس چوس کر پینا۔رشف