شرح القصیدہ

by Other Authors

Page 100 of 198

شرح القصیدہ — Page 100

شرح القصيده الإناء۔برتن میں جو کچھ تھا وہ سارا پی لیا۔دن۔بڑا مرتبان یا مٹکا جسے مٹی کھود کر کھڑا کیا جاتا ہے۔طافح۔بھرا ہوا۔النَّشْوَانُ : سَكْران - مدہوش۔اس کی مؤنث نشوی ہے۔ترجمہ۔بہت تھے جو ٹم کے کم پی جاتے تھے۔لیکن تو نے اُن کو دین کا متوالا بنا دیا۔شرح۔جس طرح شراب کے نشہ میں ایک مست و مدہوش شخص کے افعال فکر عواقب سے آزاد ہوتے ہیں۔اسی طرح اے میرے محبوب تو نے انہیں شراب کے نشہ سے نجات دلا کر دین کا ایسا متوالا بنادیا کہ انہوں نے دین کی خاطر عواقب سے بے فکر ہو کر قربانیاں کیں۔چنانچہ منافق لوگ انہیں یہی طعنہ دیتے تھے کہ وہ عواقب سے بے فکر ہو کر قربانی کرتے ہیں۔مال خرچ کرتے ہیں تو ایسے رنگ میں گویا انہیں کل کی فکر ہی نہیں۔اپنی جانیں قربان کرتے ہیں تو ایسے گویا کہ ے شہادت ہے مطلوب و مقصودِ مومن نہ مالِ غنیمت نہ کشور کشائی ۲۹- كَمْ مُحْدِدٍ مُسْتَنْطِقِ الْعِيْدَانِ قد صَارَ مِنْكَ مُحَدَّثَ الرَّحْمَنِ معانی الالفاظ۔مُحْدِثٌ : مُبْتَدِعٌ - بدعتی۔