شان مسیح موعود — Page 174
کہ حضرت اقدس کو نبوت اصالتا یعنی براہ راست نہیں ملی بلکہ ملی طور پر یعنی آنحضرت صل اللہ علیہ وسلم کے طفیل ملی ہے فلمی نبوت کے معنی شیخ صاحب کو رفیض محمدی سے وجی پانا حقیقت الوحی صفحہ ہم مسلم میں اور شیخ صاحب کو پیغام صلح مجریہ ۵ استمبرشتہ صفحہ یہ کالم ۳ پر حضرت اقدس کا نفلی طور پر وحی الہی کو انتہائی کمال کے ساتھ پانا بھی مسلم ہے۔لہذا خلیت ان معنوں میں تو ہمار ے اور آپ کے در میان متنازعہ فیہ امر نہیں۔صل متنازعہ یہ امر تو ہار ہے اور شیخ صاحب کے درمیان یہ ہے کہ علی طور پر وحی انہی کو انتہائی کمال تک پانا شیخ صاحب کے نزدیک نبوت نہیں بلکہ ولائت ہے۔حالانکہ حضرت اقدس چشمہ معرفت ہمیں اسے نبوت کی ایک قسم قرار دیتے ہیں گویا نفس نبوت کے لحاظ سے اسے نبوت ہی بیان فرماتے ہیں۔پس ہمار کی دلیل ظلتی نبی کا لفظ نہیں ہوتی بلکہ ملی نبوی کی وہ حیثیت ہوتی ہے جو حضرت ہی سے موعود علی اسلام نے بیان فرمائی ہے جس کا ذکر قبل ازیں کیا جا چکا ہے۔" ایک غلطی کا ازالہ" میں حضرت اقدس نے نبوت براہ راست طریق سے ملنا بند قرار دے کر پھر اسی موسیت کے پانے کے لئے بروز ، ظلیت اور فنافی الرسول کا دروازہ کھلا قرار دیا ہے اور نبوت کی حقیقت آیت لايُظمُ عَلَى غَيْبِهِ أَحَدًا إِلَّا من ارتضى مِن رَّسُول پیش کر کے مصطفے غیب پانا قرار دی ہے اور مصفی غیب پانے کے لئے نبی ہونا ضروری ٹھہرایا ہے۔اس طرح مصفی غیب کو ہی موہبت ثبوت قرار دیا ہے اور اسی کی وجہ سے پہلے انبیاء کا بنی کہلانا بیان فرمایا ہے۔اس سے ظاہر ہے کہ کامل تلقی نبی جو انتہائی کمال پر وحی الہی پاتا ہے، نفیس نبوت کے لحاظ سے وہی موسیت نبوت رکھتا ہے جو