شان مسیح موعود — Page 220
۲۲۰ زمرہ اولیاء کے ہی فرد تھے۔کیونکہ کوئی نبی اپنی وحی کو سچا اور یقینی سمجھنے کے بارے میں کسی دوسرے نبی کا محتاج نہیں ہوتا لیکن حضور پنی وجی کو سچا اور یقینی سمجھنے میں اپنے آپ کو پہلے نبی کی وحی کی تصدیق کے محتاج سمجھ رہے ہیں اور یہ بات نبوت کے منافی ہے کہ ایک شخص نبی ہو اور وہ اس وقت اپنی وحی کو خدا کی طرف سے یقین نہ کرے جب تک کہ پہلے نبی کی وحی اس کے سچا ہونے کی تصدیق نہ کر دے بہر حال اس سے یہ تو ثابت ہو گیا کہ جینگ حضور کی وحی کی تصدیق قرآن کریم اور احادیث صریحہ سے دستیاب نہ ہو اس وقت دو ستر گیا۔حضور خود بھی اس پر اعتماد نہیں کر سکتے " د روس اسلام صفحه (۱) شیخ صاحب کے یہ الفاظ سخت نا مناسب ہیں۔گو حضرت اقدس حیات میسج کے قائل ہونے کے زمانے میں اپنے آپ کو مسیح موعود اور نبی نہیں سمجھتے تھے اور وفات مسیح اور اپنے مسیح موجود ہونے کے بارہ میں جب آپ پر الہام ہوا تو آپ نے اسے قرآن و حدیت پر بھی عرض کیا۔لیکن قرآن و حدیث پر اس الہام کو عرض کرنے سے مصر کا صاحب کا یہ نتیجہ نکالا کہ حضور اپنے الہام کے متعلق شک میں تھے اور اسے اس وقت تک باور نہیں کیا جب تک قرآن و حدیث پر اسے پیش کر کے شک دُور نہ ہو گیا۔حضرت مسیح موعود علیہ اسلام کے اپنے بیان کے صریح خلاف ہے۔افسوس ہے کہ شیخ مصری صاحب نے حضور کے بیان کا پہلا حصہ دانستہ ترک کر دیا ہے جو ان کی اس نا مناسب گفتار کے صریح خوان ہے۔حضور تحریمہ فرماتے ہیں :-