شان مسیح موعود — Page 172
۱۷۲ اقدس نے آیت لا يُظهِرُ عَلَى غَيْبِهِ أَحَدًا إِلَّا مَنِ ارْتَضَى من رسول پیش کر کے اس آیت کے منطوق کے مطابق انہیں بنی قرار دیا ہے اور آیت کا مفہوم یہ بتایا ہے کہ مصفی غیب پانے کے لئے نبی ہونا ضروری ہوا" پس نبی کہلانا اور نبی ہونا ایک ہی بات ہے۔چونکہ کسی کے نبی ہونے کا اعلان خدا ہی کر سکتا ہے لہذا " نبی کہلاتے رہے " کا مفہوم متعین ہو گیا کہ وہ عند اللہ بھی مصفی غیب یعنی نبوتوں اور پیشگوئیوں کی وجہ سے نبی کہلاتے رہے اور یہی امرنبوت کا ذاتی وصف ہے اور شریعت لانا یا یر امتی ہوتا یاکسی نبی کا امتی ہونا صفات عرضیہ میں جو نبیوں کی الگ الگ خصوصیات ہیں۔پس خلاصہ کلام یہ ہے کہ صریح طور پر نبی کہلانے کا مفہوم یہ ہے کہ حضرت اقدس کیلئے کھلے طور پر نبی ہیں یعنی محدث کی تاویل کے بغیر نبی ہیں۔اسی لئے تو آپ نے ایک غلطی کا ازالہ " میں لکھا ہے :- گر خدا تعالیٰ سے غیب کی خبریں پانے والا نہی کا نام نہیں رکھتا تو پھر بتانا ٹوکس نام سے اس کو پکارا جائے۔اگر کہو اس کا نام محدث ہے تو میں کہتا ہوں کہ تحدیث کے معنے کسی لغت کی کتاب میں اظہار امر غیب نہیں۔اور اس سے کچھ پہلے لکھتے ہیں :۔ہ جس کے ہاتھ پر اخبار غیبیہ منجانب اللہ ظاہر ہوں بالضرورت اس پر مطابق آیت لا يظهر علی غیبہ کے مفہوم نبی کا صادق آئے گا "