شان مسیح موعود — Page 103
کامل نیلی ہو وہ تو خدا تعالے کی طرف سے <mark><mark><mark>نبی</mark></mark></mark> کا نام اور مقام پاتا ہے اور نیتی اور رسول ہوتا ہے مگر جو حقیقت میں کامل خیل نہ ہو اور ظلی <mark>نبوت</mark>، ناقص دیکھتا ہو وہ خدا تعالے کی طرف سے <mark><mark><mark>نبی</mark></mark></mark> کا نام نہیں دیا جاتا بلکہ وہ محض <mark>محدث</mark> ہی ہوتا ہے۔نہیں حقیقت کے لحاظ سے علی <mark>نبوت</mark> کا ملہ ہی ایک قسم کی <mark>نبوت</mark> ہے۔ناقص خلقی ا<mark><mark><mark>نبی</mark></mark></mark>ا ر <mark>محدث</mark>ین ہیں۔چونکہ ظلی <mark>نبوت</mark> کی قسم ناقص طور پر پائی بھاتی ہے۔لہذا وہ اس قسیم <mark>نبوت</mark> کو ناقص طور پر رکھنے والے سمجھے جائیں گے اور ان پر <mark><mark><mark>نبی</mark></mark></mark> کا اطلاق <mark>صرف</mark> غیر <mark>حقیقی</mark> طور پر ہی ہو سکے گا کیونکہ وہ حقیقت کے لحاظ سے کامل خلل نہیں گو اپنے دائرہ تجدید و اصلاح کے لحاظ سے انہیں بھی کامل کہہ دیا جائے۔شیخ <mark>صاحب</mark> حضرت اقدس مجاز اور استعارہ کے طور پر <mark><mark><mark>نبی</mark></mark></mark> سر <mark>صرف</mark> لغوی معنوں میں طور تی <mark><mark><mark>نبی</mark></mark></mark> مانتے ہیں نہ کہ اسلامی اصطلاح میں۔اسلامی اصطلاح کے مقابل وہ آپ کو مجانہ اور استعارہ کے طور پر <mark><mark><mark>نبی</mark></mark></mark> سمجھتے ہیں۔اس کے متعلق واضح ہو کہ معروف اسلامی اصطلاح تو استقرائی ہے یعنی وہ ا<mark><mark><mark>نبی</mark></mark></mark>ائے سابقین کے افراد کو ملحوظ رکھ کر وضع کی گئی ہے۔چونکہ ا<mark><mark><mark>نبی</mark></mark></mark>ائے سابقین میں سے کوئی علی <mark><mark><mark>نبی</mark></mark></mark> یا امتی <mark><mark><mark>نبی</mark></mark></mark> نہ تھا بلکہ وہ سب غیر امتی <mark><mark><mark>نبی</mark></mark></mark> تھے اس لئے اس اصطلاح میں جو استقرار سے اخذ کی گئی <mark><mark><mark>نبی</mark></mark></mark> کے لئے امتی نہ ہونا ضروری سمجھا گیا۔اس اصطلاح کے مقابلہ میں تو بے شک حضرت اقدس کی <mark>نبوت</mark> کو مجاز اور استفادہ ہی قرار دیا جا سکتا ہے تا تشریعی <mark>نبوت</mark> اور مستقلہ <mark>نبوت</mark> سے