شان مسیح موعود

by Other Authors

Page 104 of 240

شان مسیح موعود — Page 104

حضرت اقدس کی نبوت کا التباس نہ ہو کیونکہ اس اصطلاح میں نبی کے لئے کامل شریعت یا احکام جدیدہ لانا یا کسی دوسرے نبی کا امتی نہ کہلانا شروط ہے۔(ملاحظه مو مکتوب مارا اگست شاه مندرجہ الحکم گر تبدیلی عقیدہ کے وقت حضرت اقدس کے اپنے آپ کو متواتر وجی سے صریح طور پر نبی سمجھ لینے کے اور اولیاء اللہ کے مقابلہ میں اپنی نبوت خلیہ کو کاملہ قرار دینے کے بعد حضرت اقدس نے نبی کی اسلامی اصطلاح میں ترمیم فرما دی ہے اور ضمیمہ براہین احمدیہ حصہ پنجم صفحہ ۱۳۸ پر نبی کے حقیقی معنی بیان کرنے کے بعد یہ تحریر فرما دیا ہے کہ ایک امتی کو ایسا نبی قرار دینے میں کوئی محذور لازم نہیں آتا اور نبی کے تحقیقی معنی اختیار غیبیہ اور مکالمہ و مخاطبہ الہیہ قرار دیتے ہیں۔دوسری جگہ اسی امر کو اسلامی اصطلاح میں بھی نبوت اور خدا کے حکم (مندرجہ قرآن مجید میں بھی نبوت قرار دیا ہے اور خدا تعالے کی اصطلاح میں بھی نبوت قرار دیا ہے۔اور نبیوں کے اتفاق سے بھی نبوت قرامہ دیا ہے۔اور پھر اپنے نزدیک نبوت کے حضور یہ معنی بھی یہی بیان فرمائے ہیں۔اب نبی کے لئے آپ نے مکالمہ مخاطبہ الہیہ کا ملہ میں امور غیبیہ کی کثرت کو شرط قرار دیا ہے اور اس کے لئے غیر امتی ہونا ضروری قرار نہیں دیا۔پس حضرت اقدس علیہ السلام صرف لغوی معنوں میں ہی نبی نہیں بلکہ خدا کے حکم اور خدا کی اصطلاح میں بھی نبی ہیں۔لہذا خدا کے حکم اور خدا کی اصطلاح کے لحاظ سے آپ کی نبوت مجازی نہیں بلکہ اس لحاظ سے آپ ایک قسم کے نبی ہی ہیں۔تبھی تو آپ نے تحریر فرمایا :-