شیطان کے چیلے

by Other Authors

Page 570 of 670

شیطان کے چیلے — Page 570

566 کیا جائے۔انسان کی سرشت میں خواہش اور جستجو رب تعالیٰ نے رکھی ہے اور اس کی تسکین کی خاطر اسباب وعلل کی دنیا میں تمثیلات پیش کی ہیں، اسی سلسلے میں کچھ تحقیقات کی طرف میں آپ کی رہنمائی کروں گا۔انسانی روح کا وزن 21 گرام ہوتا ہے یہ دعوئی سویڈن کے ایک ڈاکٹر نے کیا ہے اور کہا ہے اس دعوی کو ثابت کرنے کے لئے اس کے پاس ثبوت موجود ہیں۔ڈاکٹر نلسن اولوف جیکب سن نے اپنی کتاب زندگی بعد زندگی (Life After Life) میں لکھا ہے کہ انہوں نے قریب المرگ مریضوں کو انتہائی حساس تر از و پر رکھ کر تولا جونہی کوئی شخص مرتا اور اس کی روح قفس عنصری سے پرواز کر جاتی ، ترازو کی سوئی اکیس گرام نیچے آجاتی۔“ دو (ماخوذ روز نامہ جنگ 2 دسمبر 1972 ء ) ( ہم اللہ کو کیوں مانیں صفحہ 45،44) اسی طرح ایک بدروح کا اور واقعہ بیان کر کے سید عبدالحفیظ نے لکھا ہے کہ متذکرہ بالا بیانات کی روشنی سے اگر چہ کچھ حد تک روح پر واقفیت ہوتی ہے لیکن یہ سوال ہنوز جوں کا توں رہتا ہے کہ آخر ہم روح کو کیا سمجھیں۔“ (ایضاً صفحہ 47) سوال یہ ہے کہ روح کو 21 گرام کی کوئی چیز کیوں نہیں سمجھ لیتے ؟ اس کے اس طرز بیان سے محسوس یہ ہوتا ہے کہ پیر سمجھانا یہ چاہ رہا ہے کہ رسول اللہ ﷺ کو تو خدا تعالیٰ نے یہ جواب سمجھایا تھا کہ یہ میرے رب کا ایک امر ہے مگر اسے سویڈن کے ایک ڈاکٹر کی وساطت سے بذریعہ روز نامہ جنگ یہ اطلاع مل جاتی ہے کہ روح کا وزن 21 گرام ہوتا ہے!!! 10۔پیر عبدالحفیظ نے آنحضرت ﷺ کے نور کا ذکر کرتے ہوئے لکھا ہے: وو بقول غزائی یہ نور پھر تارہا کہ عظمت کے ساتھ جاملا پس اللہ تعالیٰ نے اس کے چار حصے کر دیئے اور جز واوّل سے عرش پیدا کیا۔جزو ثانی سے قلم کو پیدا کیا اور اس سے فرمایا اے قلم لکھ۔عرض کیا کیا لکھوں۔تو ارشاد ہوا ، میری تو حید اور میرے نبی کی فضیلت لکھ ، تب قلم عرش کے گرد جاری ہوا اور اس نے لکھالا اله الا الله محمدالرسول الله۔“ ( نقل بمطابق اصل) 11۔پیر صاحب لکھتے ہیں: وو رب فرماتے ہیں: ( ہم اللہ کو کیوں مانیں صفحہ 105)