شیطان کے چیلے — Page 569
565 بالکل برعکس ہے اور شیطانی ہے۔لیکن ہمارا سوال یہ ہے کہ کیا یہ سورہ الشعراء آیت 223 میں خدا تعالیٰ کے فرمان کے مطابق ان کے افاک اور اثیم ہونے کی کھلی کھلی دلیل نہیں ہے؟ 8۔سید عبدالحفیظ لکھتا ہے۔وو ” وجود انسانی میں اخبار کی آمد کے مختلف ذرائع ہیں ہر ذریعہ ایک دوسرے سے جدا اور کام تقریباً یکساں ہے مثلاً القاء ادراک، رویائے صالحہ، الہام، فراست اور کشف جبکہ وحی انبیاء کے لئے مخصوص ہے۔“ ( ہم اللہ کو کیوں ما نہیں صفحہ 125) ہم سید عبدالحفیظ سے یہ توقع تو نہیں رکھ سکتے کہ وہ قرآنِ کریم نہیں پڑھا ہوا۔( بلکہ اس کے ایک مرید کے بقول تو اس کی گفتگو ہی قرآن کریم کا عکس ہوتا ہے اور جب اس گفتگو کو تحریر کریں تو وہ پارے بن جاتے ہیں ویسے معلوم نہیں اب تک ان کے قرآن کے کتنے پارے بن چکے ہوں گے۔چونکہ یہ لوگ شیطان کے نوٹس آگے چلاتے ہیں ) اس لئے یہی ثابت ہوتا ہے کہ وہ لوگوں کو جان بوجھ کر گمراہ کر رہا ہے کیونکہ قرآن کریم میں صاف لکھا ہوا ہے کہ اللہ تعالیٰ انبیاء علیہم السلام کے علاوہ لوگوں کو بھی وحی کرتا ہے مثلاً حضرت موسیٰ علیہ السلام کی والدہ ماجدہ کو اللہ تعالیٰ نے وحی کی۔حضرت عیسی علیہ السلام کے حواریوں کو وحی کی وغیرہ وغیرہ۔یہی نہیں بلکہ شہد کی مکھی اور زمین اور آسمانوں کو وحی کا بھی قرآن کریم میں ذکر ہے۔تو سوال اٹھتا ہے کہ پیر عبدالحفیظ نے کیا شیطان کے اکسانے پر عمد احق کو چھپایا ہے یا جان بوجھ کر لوگوں کو گمراہ کرنے کے لئے کذب صریح کا ارتکاب کیا ہے؟ -9 پیر عبدالحفیظ لکھتا ہے: میں یہ سمجھانے کی کوشش کروں گا کہ روح ہے کیا۔جب یہودیوں نے سرکار دو عالم روح کے متعلق سوال کیا تو اللہ تبارک تعالیٰ سرکار دو عالم پر یہ وحی نازل فرمائی: " کہہ دو کہ روح میرا حکم ہے۔“ تخلیق آدم کے سلسلے میں رب تعالیٰ فرماتے ہیں: (17/85) پھر اس کو درست کیا اور اس میں اپنی طرف کی روح پھونکی۔“ (32/9) ان آیات کے مطالعہ سے پتہ چلتا ہے ہم روح کے متعلق تحقیق نہ کریں تو زیادہ مناسب ہے لیکن کیا