شیطان کے چیلے

by Other Authors

Page 345 of 670

شیطان کے چیلے — Page 345

343 بغض و عناد میں یہ معترض اس قدر اندھا ہو چکا ہے کہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی پوری عبارت بھی نہیں پڑھ سکا۔اور نہ یہ سوچ سکا ہے کہ مسمریزم وغیرہ کے عمل کو شریعت اسلامیہ میں مکر وہ سمجھا جاتا ہے لیکن پہلی شریعتوں میں ایسا نہیں تھا۔حضرت مسیح علیہ السلام کو جن مخالف یہودیوں کے ساتھ واسطہ تھا وہ ایسے ہی کاموں سے تسلی پاتے تھے۔ان کو لا جواب کرنے کے لئے خدا تعالیٰ نے آپ کو اس عمل کی طاقت عطافرمائی تھی۔چنانچہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی مکمل عبارت ملاحظہ فرما ئیں تو اس میں حضرت عیسی علیہ السلام کا مؤید من اللہ ہونا ثابت کیا گیا ہے۔آپ فرماتے ہیں : ” مجھے وہ طریق پسند ہے جس پر ہمارے نبی کریم ﷺ نے قدم مارا ہے۔حضرت مسیح نے بھی اس عمل جسمانی کو یہودیوں کے جسمانی اور پست خیالات کی وجہ سے جو ان کی فطرت میں مرکوز تھے باذن الہی و حکم الہی اختیار کیا تھا ورنہ در اصل مسیح کو بھی یعمل پسند نہ تھا۔“ (ازالہ اوہام۔روحانی خزائن جلد 3 صفحہ 258 حاشیہ) اس عبارت میں کونسی ایسی بات ہے جس پر راشد علی کو اعتراض ہے۔حضرت مسیح علیہ السلام نے تو کوئی بُرا کام نہیں کیا جس کا ذکر حضرت بانی سلسلہ احمدیہ نے کیا ہے۔حضرت مسیح نے جو کچھ کیا وہ باذن الہی وبحکم الہی کیا تھا۔حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے اس مسئلہ پر مزید روشنی ڈالتے ہوئے تحریر فرمایا کہ وو سو واضح ہو کہ انبیاء کے معجزات دو قسم کے ہوتے ہیں۔(۱) ایک وہ جو محض سماوی امور ہوتے ہیں جن میں انسان کی تدبیر اور عقل کو کچھ دخل نہیں ہوتا جیسے شق القمر جو ہمارے سید و مولی نبی ﷺ کا معجزہ تھا اور خدا تعالیٰ کی غیر محدود قدرت نے ایک راستباز اور کامل نبی کی عظمت ظاہر کرنے کے لئے اس کو دکھایا تھا۔(۲) دوسرے عقلی معجزات ہیں جو اس خارق عادت عقل کے ذریعہ سے ظہور پذیر ہوتے ہیں جو الہام الہی سے ملتی ہے جیسے حضرت سلیمان کا وہ معجزہ جو صَرْحُ مُمَرَّدٌ مِنْ قَوَارِیر ہے جس کو دیکھ کر بلقیس کو ایمان نصیب ہوا۔