شیطان کے چیلے — Page 346
344 اب جاننا چاہئے کہ بظاہر ایسا معلوم ہوتا ہے کہ یہ حضرت مسیح کا معجزہ حضرت سلیمان کے معجزے کی طرح صرف عقلی تھا۔“ (ازالہ اوہام۔روحانی خزائن جلد 3 صفحہ 254 حاشیہ ) اگر کسی کے اندر بغض نہ بھرا ہوا ہو تو وہ اس پر اعتراض نہیں اٹھا سکتا بلکہ وہ اس کو ملج قلب کے ساتھ قبول کرے گا کیونکہ اس سے ایک طرف تو آنحضرت ﷺ کے معجزات کی عظمت اور بے نظیری ثابت ہوتی ہے اور دوسری طرف حضرت عیسی علیہ السلام اور دوسرے انبیاء علیہم السلام کے معجزات کی حقانیت کا ایسا معقول اور منطقی ثبوت ملتا ہے جو قرآنِ کریم کے عین مطابق ہے۔(4) حضرت مسیح علیہ السلام یوسف نجار کے بیٹے تھے؟ معترض لکھتا ہے کہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے لکھا ہے کہ "Hazret Masee how was the son of yousef Najjar (Joseph the carpenter)" (Beware۔۔۔) اس کا جواب یہ ہے کہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے حضرت عیسی علیہ السلام کو جہاں بھی یوسف ختبار کا بیٹا لکھا ہے وہاں عام اور عرفی لحاظ سے لکھا ہے کیونکہ یوسف نجار نے حضرت عیسی علیہ السلام کی والدہ سے بیاہ کیا تھا جس کی وجہ سے آپ ان کے سوتیلے بیٹے بنتے ہیں اور عرفی طور پر آپ یوسف نجار ہی کے بیٹے تھے۔جیسا کہ اناجیل میں بھی درج ہے۔لوگ آپ کو یوسف نجار کی طرف ہی منسوب کرتے تھے اور اسی کے پیشہ کی مناسبت سے کہتے تھے کہ ( متی باب 13 آیت 55) " کیا یہ بڑھئی کا بیٹا نہیں“ پس یہ اعتراض حضرت مسیح موعود علیہ السلام پر نہیں انا جیل پر اٹھتا ہے۔باقی جہاں تک حضرت عیسی علیہ السلام کی پیدائش کا تعلق ہے حضرت مسیح موعود علیہ السلام اپنا عقیدہ یوں بیان فرماتے ہیں: