شیطان کے چیلے

by Other Authors

Page 230 of 670

شیطان کے چیلے — Page 230

229 ترجمہ:۔میں نے خواب میں دیکھا کہ حضرت عائشہ کی گود میں ہوں اور ان کے دائیں پستان کو چوس رہا ہوں۔پھر میں نے بایاں پستان باہر نکالا اور اس کو چوسا۔اس وقت آنحضرت ﷺ تشریف لے آئے۔یہ تو امت کے مسلمہ بزرگوں کے کشوف میں سے صرف دوکشف نمونہ کے طور پر قارئین کی خدمت میں پیش کئے گئے ہیں۔اب دیو بندیوں کے مشہور بزرگ حضرت شاہ محمد آفاق (متوفی 14 اگست 1835ء ) کے اس کشف کو بھی پڑھ لیں جو انہوں نے اپنے ایک مرید فضل الرحمان گنج مراد آبادی کو بتایا۔چنانچہ حضرت۔۔۔ہادی شریعت وطریقت ، واقف اسرار حقیقت و معرفت ، مرجع خواص وعوام ، قطب دوران ، غوث زمان مرشد نا و مولانا فضل الرحمان صاحب دامت برکاتہم و علمت فیوضاتہم کی زبان فیض ترجمان سے ارشاد ہوا کہ ایک مرتبہ حضرت علی رضی اللہ عنہ فرمانے لگے کہ ہمارے گھر میں جاؤ۔مجھے جاتے ہوئے شرم آئی۔اس لئے تامل کیا۔حضرت نے مکتر رفرمایا کہ جاؤ۔ہم کہتے ہیں۔میں گیا۔اندر حضرت فاطمہ رضی اللہ عنہا تشریف رکھتی تھیں۔آپ نے سینہ مبارک کھول کر مجھے سینہ سے لگالیا اور بہت پیار کیا۔“ دو ارشا در حمانی و فضل یزدانی۔صفحہ 50۔شائع کردہ درویش پر لیس دہلی 1945ء) پس تعجب ہے راشد علی اور اس کے پیر کی عقل پر کہ اگر کوئی کشف میں مکہ ، مدینہ اور قادیان کے نام قرآن کریم میں دیکھ لے تو یہ شور مچادیتے ہیں لیکن مولا نا فضل الرحمان کے اس ارشاد مذکورہ بالا کو پڑھ کر انہیں شرم تک نہیں آتی۔حقیقت یہ ہے کہ کشوف تعبیر طلب ہوتے ہیں اور اگر ان کی عقل و سمجھ اور بصیرت کے مطابق مناسب تعبیر نہ کی جائے تو نتائج انتہائی بھیا نک ہو جاتے ہیں جس کے ذمہ دار صاحب رؤیا و کشوف بزرگ نہیں بلکہ وہ لوگ ہوتے ہیں جو ان کشوف کی غیر مناسب تعبیر کرتے ہیں یا تعبیر کی بجائے اسے ظاہر پر محمول کر کے پھر اپنے خبث باطن کا اظہار کرتے ہیں۔