شیطان کے چیلے — Page 231
230 (9) قرآن خدا کا کلام اور میرے منہ کی باتیں حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے ایک اردو الہام " قرآن خدا کا کلام اور میرے منہ کی باتیں ہیں“ کا ترجمہ، راشد علی یہ کرتا ہے کہ۔"Quran is Gods book and words of my mouth"۔(Beware۔۔۔) یہ تحریر کر کے وہ نامعلوم کیا ثابت کرنا چاہتا ہے۔اس الہام کی تشریح حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے خود یہ بیان فرمائی کہ ” خدا کے منہ کی باتیں۔خدا تعالیٰ فرماتا ہے کہ میرے منہ کی باتیں۔اس طرح ضمائر کے اختلاف ( ملفوظات جلد 9 صفحہ 308 ) کی مثالیں قرآن شریف میں موجود ہیں۔“ اس الہام میں خدا تعالیٰ نے قرآن کریم کے بے نظیر، خالص اور محفوظ ہونے کی وضاحت فرمائی ہے اور حضرت مسیح موعود علیہ السلام، جن پر یہ الہام نازل ہوا ہے، خود اس کی تشریح یہ بیان کرتے ہیں کہ اس میں ” میرے منہ سے مراد خدا تعالیٰ کا منہ ہے۔اور ” میرے“ کی ضمیر خدا تعالیٰ کی طرف راجع ہے۔تو اس وضاحت کے بعد کسی کو یہ حق نہیں پہنچتا کہ آپ کی طرف ایسی بات منسوب کرے جو آپ نے کہی ہی نہیں۔قرآن شریف میں انصراف ضمائر کی ایسی کئی مثالیں موجود ہیں جن میں سے ایک یہ بھی ہے۔وَاللَّهُ الَّذِي أَرْسَلَ الرِّيَاحَ فَتُثِيْرُ سَحَابًا فَسُقْنَاهُ إِلَى بَلَدٍ مَيِّتٍ (فاطر:10) ترجمہ :۔اور اللہ وہ ہے جو ہوائیں بھیجتا ہے جو بادل کو اٹھاتی ہیں۔پھر ہم اس کو ایک مردہ ملک کی طرف ہانک کر لے جاتے ہیں۔یہاں پہلے اللہ تعالیٰ کے لئے غائب کی ضمیر کا استعمال کیا گیا ہے۔پھر اچانک انصراف کر کے اسے متکلم کی طرف پھیر دیا گیا ہے۔چنانچہ فَسُقْناہ میں ”نا“ کی ضمیر بظاہر انسانوں کی طرف معلوم ہوتی 66 ہے مگر دراصل یہاں ”نا“ سے مراد بھی اللہ تعالیٰ ہی ہے۔پس ایسی مثالیں خدا تعالیٰ کے کلام میں پائی جاتی