شیطان کے چیلے — Page 229
228 " کشفی طور پر میں نے دیکھا کہ میرے بھائی صاحب مرحوم مرزا غلام قادر مرے قریب بیٹھ کر بآواز بلند قرآن شریف پڑھ رہے ہیں اور پڑھتے پڑھتے انہوں نے ان فقرات کو پڑھا کہ انا انزلناہ قريباً من القادیان تو میں نے سنکر بہت تعجب کیا کہ کیا قادیان کا نام بھی قرآن شریف میں لکھا ہوا ہے؟ تب انہوں نے کہا کہ یہ دیکھو لکھا ہوا ہے۔تب میں نے نظر ڈال کر جو دیکھا تو معلوم ہوا کہ فی الحقیقت قرآن شریف کے دائیں صفحہ میں شاید قریب نصف کے موقع پر یہی الہامی عبارت لکھی ہوئی موجود ہے۔تب میں نے اپنے دل میں کہا کہ ہاں واقعی طور پر قادیان کا نام قرآن شریف میں درج ہے اور میں نے کہا کہ تین شہروں کا نام اعزاز کے ساتھ قرآن شریف میں درج کیا گیا ہے۔مکہ اور مدینہ اور قادیان۔یہ کشف تھا جو کئی سال ہوئے کہ مجھے دکھلایا گیا تھا۔“ (ازالہ اوہام۔روحانی خزائن جلد 3 صفحہ 140 حاشیہ ) ہر صاحب فہم انسان جانتا ہے کہ عموما کشوف تعبیر طلب ہوتے ہیں۔چنانچہ ایک کشف کو لازمی طور پر ظاہری واقعہ کی شکل میں پیش کر کے موردِ الزام بنانا صرف اور صرف جھوٹوں اور شیطانوں کا کام ہے۔کشوف کی عموما تعبیر ہوتی ہے۔اگر انہیں ظاہر پر محمول کر کے اور ظاہری واقعہ قرار دے کر مور وطعن بنایا جائے تو نہ صرف یہ کہ عالم اسلام میں کوئی بزرگ ایسے طعن سے بچ نہیں سکتا بلکہ خدا تعالیٰ کے مقدس انبیاء بھی اس شیطان را شد علی کی کچلیوں کی زد میں آتے ہیں۔اس کے ثبوت کے لئے ذیل میں صرف چند آئمہ اور بزرگوں کے کشوف درج کئے جاتے ہیں۔ا۔حضرت امام ابوحنیفہ نے دیکھا کہ: آنحضرت ﷺ کی استخوان مبارک لحد میں جمع کر رہے ہیں۔ان میں سے بعض کو پسند کرتے 66 ہیں اور بعض کو نا پسند۔چنانچہ خواب کی ہیبت سے بیدار ہو گئے۔“ ۲۔اور حضرت سید عبدالقادر جیلانی " فرماتے ہیں: وو (تذکرۃ الاولیاء۔باب 18 - کشف المحجوب مترجم ارد صفحه 106) رايـت فـي الـمـنـام كـانـي في حجر عائشة ام المؤمنين رضى الله عنها وانا ارضع 66 ثديها الايمن ثم اخرجت ثديها الايسر فارضعته فدخل رسول الله صلى الله عليه وسلم “ (قلائد الجواهر فی مناقب الشيخ عبد القادر جیلانی"۔مطبوعہ مصرصفحہ 57)