شیطان کے چیلے

by Other Authors

Page 201 of 670

شیطان کے چیلے — Page 201

200 وقت آریوں نے لیکھرام کی وجہ سے اور عیسائیوں نے آتھم کی وجہ سے مجھے لاکھ لاکھ روپیہ دینا چاہا، تا میں کسی طرح مرزا صاحب پر نائش کروں۔اگر میں وہ روپیہ لے لیتا تو امیر کبیر بن سکتا تھا۔مگروہی ایمان اور اعتقاد تھا جس نے مجھے اس فعل سے روکا۔“ الفضل 9 / 13 جون 1921ء) مرزا سلطان محمد صاحب کا یہ بیان ان کی زندگی میں ہی شائع ہوا۔انہوں نے حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی اس پیشگوئی کو مومنانہ سوچ اور بصیرت کی نظر سے دیکھا تو باوجود ایک طرح سے فریق مخالف ہونے کے خود اس کی صداقت کے گواہ بن گئے۔چونکہ وہ حقیقی تو بہ کر چکے تھے اور پیشگوئی کی صداقت کے قائل تھے اس لئے وہ اس گراں بہالالچ دئے جانے پر بھی کسی قسم کی بے باکی اور شوخی کے لئے تیار نہ ہوئے۔اسی طرح حضرت صاحبزادہ مرزا شریف احمد کی مرزا سلطان محمد صاحب سے ملاقات کے بارہ میں حلفیہ شہادت ہے۔اس ملاقات میں انہوں نے بعینہ انہی جذبات کا اظہار کیا جو مذکورہ بالا انٹرویو میں بیان ہوئے ہیں۔حضرت مولوی ظہور حسین مجاہد بخارا نے مرزا سلطان محمد سے اپنی ایک ملاقات کا ذکر کرتے ہوئے یہ حلفیہ شہادت دی کہ انہوں نے بتایا کہ ان کے پاس مولوی ثناء اللہ صاحب امرتسری بھی آئے تھے اور شدید اصرار کیا کہ وہ انہیں حضرت اقدس مسیح موعود علیہ السلام کے خلاف ایک ایسی تحریر دیدیں جس میں یہ بیان ہو کہ یہ پیشگوئی غلط ثابت ہوئی۔مرزا سلطان محمد نے بیان کیا کہ ” مولوی ثناء اللہ امرتسری صاحب یہی رٹ لگاتے رہے جس پر میں نے ایسی تحریر دینے سے صاف طور پر انکار کر دیا اور وہ بے نیل مرام واپس چلے گئے۔صاحب کے متعلق میری عقیدت ہی تھی جس کی وجہ سے میں نے ان کی ایک بھی نہ مانی۔۔۔۔۔عیسائی اور آریہ قوم کے بڑے بڑے لیڈروں نے بھی مجھ سے اس قسم کی تحریر لینے کی خواہش کی مگر میں نے کسی کی نہ مانی اور صاف ایسی تحریر دینے سے انکار کرتا رہا۔“۔حضرت مرزا علاوہ ازیں انہوں نے اپنے ایک احمدی دوست کے نام اپنے ایک خط میں بھی حضرت اقدس مسیح موعود علیہ السلام سے اپنی عقیدت کا اظہار کیا۔وہ لکھتے ہیں : دو از انبالہ چھاؤنی 21۔3۔1913