شیطان کے چیلے

by Other Authors

Page 131 of 670

شیطان کے چیلے — Page 131

130 کے مقابلہ میں زبان کھول سکتا۔آج سارے پنجاب بلکہ بلندی ہند میں بھی اس قوت کا کوئی لکھنے والا نہیں۔وو 66 ہندوستان کے عظیم مذہبی لیڈر مولانا ابوالکلام آزاد نے لکھا: کرزن گزٹ۔دہلی۔مورخہ یکم جون 1908ء) " مرزا صاحب کا لٹریچر جو مسیحیوں اور آریوں کے مقابلہ پر ان سے ظہور میں آیا قبول عام کی سند حاصل کر چکا ہے اور اس خصوصیت میں وہ کسی تعارف کے محتاج نہیں۔اس لٹریچر کی قدرو عظمت آج جبکہ وہ اپنا کام پورا کر چکا ہے ہمیں دل سے تسلیم کرنی پڑتی ہے آئندہ امید نہیں کہ ہندوستان کی مذہبی دنیا میں اس شان کا شخص پیدا ہو۔" وو اخبار صادق الاخبار ریواڑی نے لکھا: (وکیل۔امرتسر۔جون 1908ء) " مرزا صاحب نے اپنی پر زور تقاریر اور شاندار تصانیف سے مخالفین اسلام کو ان کے پیچر اعتراضات کے دندان شکن جواب دے کر ہمیشہ کے لئے ساکت کر دیا اور ثابت کر دکھایا ہے کہ حق حق ہی ہے۔اور واقعی مرزا صاحب نے حق حمایت اسلام کا کماحقہ ادا کر کے خدمتِ اسلام میں کوئی دقیقہ فروگذاشت نہیں کیا۔انصاف متقاضی ہے کہ ایسے اولوالعزم حامی اسلام اور معین المسلمین ، فاضلِ اجل، عالم بے بدل کی ناگہانی موت اور بے وقت موت پر افسوس کیا جائے۔“ ( صادق الاخبار۔ریواڑی جون 1908ء) اور شمالی ہند کے مشہور صحافی، مدیر سیاست مولانا سید حبیب صاحب نے اپنی کتاب تحریک قادیان میں لکھا۔اس وقت کہ آریہ اور مسیحی مبلغ اسلام پر بے پناہ حملے کر رہے تھے۔اسے دُگے جو عالم دین بھی کہیں موجود تھے وہ ناموس شریعت حقہ کے تحفظ میں مصروف ہو گئے مگر کوئی زیادہ کامیاب نہ ہوا۔اس وقت مرزا غلام احمد صاحب میدان میں اترے اور انہوں نے مسیحی پادریوں اور آریہ اپدیشکوں کے مقابلہ میں اسلام کی طرف سے سینہ سپر ہونے کا تہیہ کر لیا۔۔مجھے یہ کہنے میں ذرا باک نہیں کہ مرزا صاحب نے اس فرض کو نہایت خوش اسلوبی سے ادا کیا اور مخالفین اسلام کے دانت کھٹے کر دیئے۔“