شیطان کے چیلے

by Other Authors

Page 132 of 670

شیطان کے چیلے — Page 132

131 ( تحریک قادیان۔صفحہ 207 تا210۔مصنفہ سید حبیب ) حضرت مرزا غلام احمد قادیانی علیہ السلام نے غیر مسلموں کے حملوں کے جواب میں جو کچھ لکھا اور اسلام کا جس شان اور قوت سے دفاع کیا اس کو عالم اسلام خراج تحسین پیش کرتا ہے ،سوائے چند حاسدوں اور بغض میں اندھوں کے کہ انہیں سوائے جھوٹے اور لغو اعتراضات کے اور کچھ سجھائی ہی نہیں دیتا۔مثلا حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے اپنی ایک نظم ، شان اسلام میں اسلام کی حقانیت اور دیگر مذاہب پر اس کی فوقیت کو ثابت کیا نیز اسلام پر آریوں کے حملوں کا ذکر کر کے اپنے درد اور کرب کا اظہار فرمایا اور لکھا۔اسلام سے نہ بھا گوراہ ھدیٰ یہی ہے اے سونے والو جا گوشمس الضحی یہی ہے مجھ کو قسم خدا کی جس نے ہمیں بنایا اب آسماں کے نیچے دین خدا یہی ہے اک دیں کی آفتوں کا غم کھا گیا ہے مجھ کو سینہ پر دشمنوں کے پتھر پڑا یہی ہے کیونکر تبہ وہ ہووے کیونکر فناوہ ہووے ظالم جوحق کا دشمن وہ سوچتا یہی ہے آنکھیں ہر ایک دیں کی بے نور ہم نے پائیں سرمہ سے معرفت کے اک سرمہ سا یہی ہے پر آریوں کی آنکھیں اندھی ہوئی ہیں ایسی وہ گالیوں پر اترے دل میں پڑا یہی ہے بدتر ہر ایک بد سے وہ ہے جو بد زباں ہے جس دل میں یہ نجاست بیت الخلا یہی ہے اس دیں کی شان و شوکت یا رب مجھے دکھا دے سب جھوٹے دیں مٹا دے میری دعا یہی ہے ) در شین صفحه 71 تا88 مطبوعہ لندن 1996ء) حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے آریوں کے لچر اور گالیوں سے بھرے گندے اعتراضات کے بارہ میں جو یہ لکھا ہے کہ بد تر ہر ایک بد ނ وہ ہے جو بد زباں ہے جس دل میں یہ نجاست بیت الخلا یہی ہے یہ راشد علی کے نزدیک سخت قابل اعتراض ہے۔وہ اس پر تلملا اٹھا ہے کہ رسول اللہ ﷺ ، اسلام اور قرآن کریم پر بد زبانی کرنے والوں کی بدزبانی اور دلی نجاست کو بیت الخلا کیوں کہا گیا ہے۔شاید اس کو اس شعر کے آئینہ میں اپنے دل کی نجاست کا نقشہ نظر آ گیا ہو لیکن ہمیں اس سے غرض نہیں۔ہمیں تردد اس