شیطان کے چیلے — Page 130
129 غیرت میں اندھا ہی ہو جائے اور عاشق رسول ، عاشق خدا اور اسلام کے فتح نصیب جرنیل پر حملے کرنے لگے۔(4) گستاخان رسول یعنی پنڈت دیانند و غیر ہم ی پر لعنت اور راشد علی کا غیظ و غضب راشد علی کی تلبیس اور اس کے دجل کی نظیر دنیا میں نہیں ملتی۔وہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی عبارتوں کو اپنی تحریفی کارروائیوں کا نشانہ اس طرح بناتا ہے کہ کسی ایک کتاب کی عبارت کا جوڑ کسی دوسری کتاب کی ایسی عبارت کے ساتھ ملاتا ہے کہ جس کا اس سے کوئی تعلق بھی نہیں ہوتا۔ایسا کر کے وہ اپنے بغض اور عناد کی آگ کو ہوا تو دیتا ہے لیکن عملاً خود ہی اس میں بھسم ہو جاتا ہے۔ا ایسی ہی ایک کوشش میں وہ اسی قدر اندھا ہو گیا کہ ان آریوں کا بھی وکیل بن گیا۔جو آنحضرت ﷺ کی شان میں گستاخیاں کرنے والے تھے۔مثلاً پنڈت دیانند کی زہر آ شام تحریریں کس سے مخفی ہیں جو اس نے آنحضرت ہے ، اسلام اور قرآن کریم کے خلاف لکھیں۔ان تحریروں کا رڈ اور پنڈت دیانند کے ہر حملے کا علمی منطقی ، معقولی اور منقولی جواب حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے ایسے رنگ میں دیا کہ آریوں کے نہ صرف دانت کھٹے کئے بلکہ ہمیشہ کے لئے ان کی کچلیاں بھی توڑ دیں۔چنانچہ دہلی کے اخبار ” کرزن گزٹ کے ایڈیٹر نامور صحافی وادیب مرزا حیرت دہلوی نے آپ کی وفات پر لکھا: دو مرحوم کی وہ اعلیٰ خدمات جو اس نے آریوں اور عیسائیوں کے مقابلہ میں اسلام کی کی ہیں وہ۔واقعی بہت ہی تعریف کی مستحق ہیں۔نہ بحیثیت ایک مسلمان ہونے کے بلکہ محقق ہونے کے ہم اس بات کا اعتراف کرتے ہیں کہ کسی بڑے سے بڑے آریہ اور بڑے سے بڑے پادری کی یہ مجال نہ تھی وہ مرحوم