شیطان کے چیلے

by Other Authors

Page 117 of 670

شیطان کے چیلے — Page 117

116 میں مولوی عبدالحق غزنوی پر جن لعنتوں کا ذکر ہے وہ لعنتیں انہیں کی تھیں جو حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے انہیں کو واپس کر دیں۔دوسری بات یہ ہے کہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی کتاب ” ازالہ اوہام، جس سے راشد علی نے مذکورہ بالا فقرہ اٹھایا ہے۔وہاں صاف نظر آ رہا ہے کہ آپ کی پوری کوشش تھی کہ کسی پر لعنت نہ ڈالی جائے۔جیسا کہ اگلی سطور میں آپ نے اس کا واضح الفاظ میں ذکر فرمایا ہے۔لیکن مخالفین ایسے تھے کہ جو لعنت بازی میں ظلم کی حدود پھلانگ چکے تھے۔آپ نے انہیں ایک ایسا طریق پیش کیا جو ہر معقول انسان کے نزدیک تو قابل قبول تھا مگر چند لعان مولوی ایسے تھے جنہوں نے اسے بھی قبول نہ کیا۔اس پر آپ نے انہیں فرمایا۔تمہیں معلوم ہو کہ مسلمانوں کے ساتھ جزئی اختلافات کی وجہ سے لعنت بازی صدیقوں کا کام نہیں۔مومن لعان نہیں ہوتا۔لیکن ایک طریق بہت آسان ہے اور وہ درحقیقت قائم مقام مباہلہ ہی ہے جس سے کا ذب اور صادق اور مقبول اور مردود کی تفریق ہو سکتی ہے اور وہ یہ ہے جو ذیل میں موٹی قلم سے لکھتا ہوں۔اے حضرات مولوی صاحبان ! آپ لوگوں کا یہ خیال کہ ہم مومن ہیں اور یہ شخص کا فراور ہم صادق ہیں اور یہ شخص کا ذب اور ہم متبع اسلام ہیں اور یہ شخص ملحد اور ہم مقبول الہی ہیں اور یہ شخص مردود اور ہم جنتی ہیں اور یہ شخص جہنمی۔اگر چہ غور کر نیوالوں کی نظر میں قرآن کریم کی روسے بخوبی فیصلہ پاچکا ہے اور اس رسالہ کے پڑھنے والے سمجھ سکتے ہیں کہ حق پر کون ہے اور باطل پر کون۔لیکن ایک اور بھی طریق فیصلہ ہے جس کی رو سے صادقوں اور کا ذبوں اور مقبولوں اور مردودوں میں فرق ہو سکتا ہے۔عادت اللہ اسی طرح پر جاری ہے کہ اگر مقبول اور مردود اپنی اپنی جگہ پر خدا تعالیٰ سے کوئی آسمانی مدد چاہیں تو وہ مقبول کی ضرور مددکرتا ہے اور کسی ایسے امر سے جو انسان کی طاقت سے بالا تر ہے اس مقبول کی قبولیت ظاہر کر دیتا ہے۔سو چونکہ آپ لوگ اہل حق ہونے کا دعوی کرتے ہیں اور آپ کی جماعت میں وہ لوگ بھی ہیں جو ہم ہونے کے مدعی ہیں