شیطان کے چیلے — Page 116
115 بلکہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی تکفیر، تکذیب اور آپ پر سب و شتم اور لعنت بازی کی با قاعدہ مہم شروع کر دی تھی۔ایسے لوگ جو خدا تعالیٰ کے ماموروں پر لعنت بازی کا بازار گرم کرتے ہیں وہ خود خدا تعالیٰ کی لعنت کے ساتھ ملائکہ اور سب لوگوں کی طرف سے لعنت کے مورد بنتے ہیں۔اس طرح یہ لعنت لاکھوں اور کروڑوں کی تعداد میں ان پر برستی ہے۔پس اگر یہ لعنت کی مشین گن ہے تو پھر یہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے نہیں بلکہ خدا تعالیٰ نے رسول اللہ ﷺ کے ذریعہ چلائی ہے اور ایک ہی بار میں اپنے علاوہ اپنے ان گنت فرشتوں اور بے شمار انسانوں کی لعنت ان پر پھینک دی ہے۔ایسی ہی لعنت کا ذکر قرآن کریم میں حضرت داؤد علیہ السلام اور حضرت عیسی علیہ السلام کی زبان سے بھی ملتا ہے۔حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے صرف ان لوگوں کو مخاطب کیا جنہوں نے آپ پر لعنت بازی اپنا فرض منصبی سمجھ رکھا تھا۔آپ نے انہیں سمجھایا کہ لعنت بازی سے باز آ ئیں کیونکہ مسلمانوں کے ساتھ جزئی اختلافات کی وجہ سے لعنت بازی صدیقوں کا کام نہیں اور یہ کہ مومن لغان نہیں ہوتا۔ان لوگوں میں مولوی عبد الحق غزنوی بھی تھے۔ان کا ایک اشتہار ” ضرب التعال علی وجہ الہ جال، مطبوعہ 3 شعبان 1314ھ اپنے نام سے ہی اپنا سارا مضمون واضح کر رہا ہے لیکن اس اشتہار کے اندر انہوں نے بار بار حضرت مسیح موعود علیہ السلام پر لعنت بھیجی۔آپ کو لعنتی کہا اور یہ بھی لکھا کہ " لعنت کا طوق اس کے گلے کا ہار ہے۔“اور ” لعنت کا بوت اس کے سر پر پڑا۔اور اللہ کی لعنت ہو وغیرہ وغیرہ اسی طرح مولوی محمد حسین بٹالوی نے تو حد ہی کر دی۔انہوں نے اپنے رسالہ اشاعۃ ا لستہ میں سنت کی اشاعت چھوڑ کر دشنام طرازی اور لعنت بازی کا طومارکھول دیا۔ان کے رسالہ کے صرف ایک ہی پر چہ یعنی ” اشاعۃ السنہ نمبر کیم لغایت ششم جلد شانز دہم 1893ء کو ہی دیکھیں کہ گالیوں کی گردان کے علاوہ انہوں نے کس طرح لعنت بازی کی ہے اور بار بار ملعون لعنت کا مستحق اور مور د ہزار لعنت خدا و فرشتگان و مسلمانان وغیرہ وغیرہ تحریر کیا ہے۔یہی حال شیخ الکل مولوی نذیرحسین دہلوی ، مولوی عبد الجبار غزنوی اور ان کے ہم مشرب لوگوں کا تھا۔انہوں نے جو عنتیں خدا تعالیٰ کے مامور مسیح و مہدی پر پھینکی تھیں مسیح موعود علیہ السلام نے وہی ان کی طرف لوٹا دی تھیں۔اور انہیں کا نمونہ راشد علی نے ” ضمیمہ انجام آتھم سے نکالکر پیش کیا ہے۔اس اقتباس