شیطان کے چیلے — Page 118
117 جیسے مولوی محی الدین و عبد الرحمن صاحب لکھو والے اور میاں عبدالحق صاحب غزنوی جو اس عاجز کو کافر اور جہنمی مظہر اتے ہیں۔لہذا آپ پر واجب ہے کہ اس آسمانی ذریعہ سے بھی دیکھ لیں کہ آسمان پر مقبول کس کا نام ہے اور مرد و دکس کا نام۔میں اس بات کو منظور کرتا ہوں کہ آپ دس ہفتہ تک اس بات کے فیصلہ کے لئے احکم الحاکمین کی طرف توجہ کریں تا اگر آپ سچے ہیں تو آپ کی سچائی کا کوئی نشان یا کوئی اعلیٰ درجہ کی پیشگوئی جو راستبازوں کو ملتی ہے آپ کو دی جائے۔ایسا ہی دوسری طرف میں بھی توجہ کروں گا اور مجھے خدا وند کریم وقدیر کی طرف سے یقین دلایا گیا ہے کہ اگر آپ نے اس طور سے میر امقابلہ کیا تو میری فتح ہوگی۔میں اس مقابلہ میں کسی پر لعنت کرنا نہیں چاہتا اور نہ کروں گا اور آپ کا اختیار ہے جو چاہیں کریں۔لیکن اگر آپ لوگ اعراض کر گئے تو گریز پر حمل کیا جائے گا۔میری اس تحریر کے مخاطب مولوی محی الدین عبد الرحمن صاحب لکھو والے اور میاں عبد الحق صاحب غزنوی اور مولوی محمد حسین صاحب بٹالوی اور مولوی رشید احمد صاحب گنگوہی اور مولوی عبدالجبار صاحب غزنوی اور مولوی نذیرحسین صاحب دہلوی ہیں اور باقی انہیں کے زیر اثر آجائیں گے۔“ را شد علی نے صرف اس مکمل عبارت کو ہی پس پردہ نہیں رکھا بلکہ اس نے جو فقرہ اس میں سے اُچک کر ہدف اعتراض بنایا ہے وہ بھی پورا پیش نہیں کیا۔ایسی ہی اس کی بدیانتیاں ہیں جو ہر جگہ رنگ لاتی ہیں اور اس کے گلے میں اس کے اپنے ہی جھوٹ کی وجہ سے لعنت کا طوق ڈالتی ہیں اور خود اسے امانت میں خیانت کرنے والا ثابت کرتی چلی جاتی ہیں۔(ازالہ اوہام۔روحانی خزائن جلد 3 صفحہ 458 تا460) حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے اس جگہ صاف اور واضح الفاظ میں لکھا ہے کہ ” مسلمانوں کے ساتھ جزئی اختلافات کی وجہ سے لعنت بازی صد یقوں کا کام نہیں۔راشد علی نے اس کا پہلا حصہ چھپا کر اگلے فقرہ کو قاعدہ کلیہ کے طور پر پیش کرنے کی کوشش کی ہے۔گویا کہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے یہ فرمایا ہے کہ بچے لوگ ہر گز لعنت نہیں بھیجتے۔جبکہ آپ کے کہنے کا مقصد یہ تھا کہ بچے لوگ محض جزئی اختلاف