شیطان کے چیلے — Page 640
637 اور مہدی ہیں۔اگر وہ خدا تعالی کی طرف سے مامور نہ ہوئے ہوتے بلکہ از راہ افتراء دعوی کرتے تو قرآن کریم کے اصولوں کے مطابق روک دیئے جاتے۔مگر یہاں معاملہ بالکل برعکس ہے کہ ے کیوں ایک مفتری کا وہ ایسا ہے آشنا یا بے خبر ہے عیب سے دھو کے میں آ گیا آخر کوئی تو بات ہے جس سے ہوا وہ یار بد کار سے تو کوئی بھی کرتا نہیں ہے پیار اے مدعی ! نہیں ہے ترے ساتھ کر دگار یہ کفر تیرے دیں سے ہے بہتر ہزار بار اپنے شامل حال تائید و نصرت خداوندی کا اظہار کرتے ہوئے حضرت مسیح موعود علیہ السلام فرماتے ہیں میں کیونکر گن سکوں تیرے یہ انعام کہاں ممکن تیرے فضلوں کا ارقام ہراک نعمت سے تو نے بھر دیا جام ہر اک دشمن کیا مردود و ناکام یہ تیرا فضل ہے اے میرے ہادی فسبحان الذي اخزى الاعادي بنائی تو نے پیارے میری ہر بات دکھائے تو نے احساں اپنے دن رات ہراک میداں میں دیں تو نے فتوحات بداندیشیوں کو تو نے کر دیا مات ہر اک بگڑی ہوئی تو نے بنا دی فسبحان الذي اخزى الاعادي الغرض وہ معیار جو کسی نبی کی صداقت کو ثابت کرنے کیلئے قرآن کریم میں بیان ہوئے ہیں ، وہ سب حضرت مسیح موعود علیہ السلام پر پورے اترتے ہیں اور وہ معیار اسی طرح پوری شان کیساتھ آپ کی سچائی ثابت کرتے ہیں جیسے آنحضرت ﷺ اور دوسرے انبیاء کی صداقت کو ثابت کرتے ہیں۔پس منہاج نبوت کی قرآنی تصدیق علی وجہ الائتم آپ کے ساتھ ہے۔الیاس ستار کو یہ حقیقت بھی مد نظر رکھنی چاہئے کہ آنحضرت ﷺ کی سچائی جیسے روز روشن کی طرح ظاہر ہوئی تھی اور اللہ تعالیٰ نے منکرین کیلئے انکار کی کوئی گنجائش بھی نہیں چھوڑی تھی۔اس کے باوجود آپ ﷺ کو بہت بڑی تعداد میں کفار نے قبول نہیں کیا تھا۔بلکہ آپ کی مدافعت میں ساری کوششیں لگادی