شیطان کے چیلے

by Other Authors

Page 636 of 670

شیطان کے چیلے — Page 636

633 اس کی طرف عوام الناس کی رہنمائی کی۔درحقیقت یہ لوگ اپنے مزعومہ مسیح کی آمد سے بالکل مایوس اور نامید ہو چکے ہیں۔لیکن اتمام حجت کے لئے ہم ایک دفعہ پھر اس پر شوکت اور پر تحدی اعلان کی طرف ان کی توجہ مبذول کراتے ہیں۔چنانچہ حضرت امام جماعت احمدیہ نے ان لوگوں کو مخاطب کرتے ہوئے فرمایا۔" آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم تو اتر کے ساتھ ان کے ( یعنی عیسی علیہ السلام کے ) آنے کی خبر دے رہے ہیں۔اس لئے تمہیں فیصلہ کرنا پڑے گا کہ اپنے مبینہ مفکرین اسلام کے پیچھے چلو گے یا حضرت محمد کے پیچھے چلو گے اور آنے والا وہ مسیح اختیار کرو گے جس کو امت موسوی سے نسبت ہے اور امت محمدیہ سے اس کو کوئی نسبت نہیں یا وہ مسیح اختیار کرو گے جو امت محمدیہ میں پیدا ہوا ، اسی امت سے نسبت رکھتا ہے اور محمد مصطفی ﷺ کا ہی غلام ہے۔اب فیصلہ یہ کرنا ہے کہ موسوی مسیح پر امت راضی ہوگی یامحمدی مسیح پر ؟ جہاں تک ہمارا تعلق ہے ہم تو مسیح محمدی پر راضی ہو گئے ہیں اور جہاں تک مسیح کے مقام کا تعلق ہے ہمارا بھی وہی عقیدہ ہے جو تمہارا ہے کہ امت محمدیہ میں آخرین میں جس مسیح نے آنا ہے وہ شریعت محمدیہ اور حضرت محمد مصطفے ﷺ کا کامل طور پر مطبع اور امتی نبی ہوگا۔اس مسیح کے مقام کے بارہ میں ہمارا سر مو کوئی اختلاف نہیں۔یہ بات ہم قطعی طور پر یقینی سمجھتے ہیں اور تم بھی یقینی سمجھتے ہو کہ آنے والا لا ز ما امتی نبی ہوگا۔اور اس بات میں اختلاف ہی کوئی نہیں۔اختلاف صرف اس بات پر ہے کہ آخرین میں ظاہر ہونے والا موسوی امت سے تعلق رکھنے والا مسیح ہے یا امت محمدیہ میں عیسی بن مریم کے مثیل کے طور پر پیدا ہونے والا امتی نبی ؟ تمہارا اپنا عقیدہ ہے اور مسلّمہ عقیدہ ہے:۔" کہ جو شخص بھی مسیح کے نام پر آئے گا وہ لا ز ما نبی اللہ ہو گا۔پرانا آئے گا یا نیا آئیگا یہ ایک الگ بحث ہے اور تمہارے بڑے بڑے علماء، تمہارے اپنے مفکرین یہ بھی لکھ چکے ہیں کہ وہ ہوگا۔یقیناً ا:۔نبی اللہ --اور اسے نبوت سے عاری ماننے والا کا فر ہوگا بلکہ بعض عظیم بزرگوں نے یہ تسلیم کیا ہے کہ صلى الله ۲:۔پرانا نہیں ہوگا۔۔بلکہ بدنِ آخر سے متعلق ہو کر آئے گا یعنی پہلا جسم نہیں بلکہ دوسرا کوئی شخص ظہور کرے گا اور پھر یہ بھی خود آنحضور ﷺ کا فیصلہ ہے کہ مہدی اور عیسی دو الگ الگ وجود نہیں ہوں گے بلکہ ایک ہی وجود کے دو نام ہوں گے۔لا المھدی الا عیسیٰ کا فرمانِ نبوی اس پر شاہد ناطق ہے۔“ فرمایا: