شیطان کے چیلے

by Other Authors

Page 635 of 670

شیطان کے چیلے — Page 635

632 گے۔البتہ جس مسیح نے آنا تھا وہ آچکا۔اس آنے والے مسیح موعود و مہدی معہود نے آج سے سو (100) سال قبل یہ اعلان فرمایا تھا کہ وو یا درکھو! کوئی آسمان سے نہیں اترے گا ہمارے مخالف جواب زندہ موجود ہیں وہ تمام مریں گے اور کوئی ان کو آسمان سے اترتا نہیں دیکھے گا اور پھر ان کی اولاد جو باقی رہے گی وہ بھی مرے گی اور ان میں سے کوئی عیسی بن مریم کو آسمان سے اترتے نہیں دیکھے گی ، پھر اولاد کی اولاد مرے گی اور وہ بھی مریم کے بیٹے کو آسمان سے اترتے نہیں دیکھے گی۔تب خدا ان کے دلوں میں گھبراہٹ ڈالے گا کہ زمانہ صلیب کے غلبہ کا بھی گذر گیا اور دنیا دوسرے رنگ میں آ گئی مگر مریم کا بیٹا اب تک آسمان سے نہ اترا۔تب دانشمند یکدفعہ اس عقیدہ سے بیزار ہو جائیں گے۔“ (تذکرۃ الشہادتین۔مطبوعہ 1903 ء۔روحانی خزائن جلد 20 صفحہ 67) 1903ء میں جولوگ زندہ موجود تھے انہوں نے بعد اپنی موت تک دیکھا مگر کوئی آسمان سے نہ اترا اور اس پیشگوئی کی صداقت کے ایک تہائی حصہ پر مہر تصدیق ثبت کر گئے پھر ان کی اولا د نے بھی یہی مشاہدہ کیا اور مایوسی کی پر چھائیوں میں موت کی آغوش میں چلے گئے مگر کسی کو آسمان سے اتر تا ہوانہ دیکھا۔پھر اس پیشگوئی کا دوسرا تہائی بھی پوری چمکار کے ساتھ اپنی صداقت دکھاتا ہوا تیسرے اور آخری تہائی کی طرف یہ اشارہ کرتا ہوا گذر گیا کہ یہ حصہ بھی اپنی پوری شان کے ساتھ پورا ہوگا۔اور دیکھو کہ وہ عملاً پورا ہو رہا ہے اور اب ان کی اولا د در اولاد یہ گواہی دے رہی ہے کہ آسمان سے نہ کوئی اترا ہے اور نہ کسی کے اترنے کے کوئی آثار دکھائی دیتے ہیں البتہ پر دہ عالم پر ان کی اس عقیدہ سے بیزاری کے سائے گہرے سے گہرے تر ہوتے چلے جارہے ہیں۔ہم ان کو یقین دلاتے ہیں اور خدائی نوشتوں کے افق پر نمایاں لکھا ہوا دکھاتے ہیں کہ نہ کبھی آسمان سے کوئی اترا ہے نہ اترے گا۔نہ مسیح ناصری علیہ السلام اب تک زندہ ہیں اور نہ وہ اسے کبھی آسمان سے اتار سکیں گے۔چنانچہ اس بنیادی اختلاف کے پیش نظر ایک اور واضح کھلا اور انتہائی حقیقت پسندانہ اعلان ، امام پیش اور ، جماعت احمدیہ سیدنا حضرت مرزا طاہر احمد خلیفہ اسیح الرابع ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز نے مورخہ 7 اپریل 1985 ء کو بمقام لنڈن جلسہ سالانہ کے موقع پر فرمایا تھا۔جس کی طرف نہ ان لوگوں نے خود نظر کی اور نہ ہی