شیطان کے چیلے

by Other Authors

Page 637 of 670

شیطان کے چیلے — Page 637

634 " تم نا کام رہے ہو اور۔۔۔ناکام رہوگے۔۔۔اور کبھی عیسی بن مریم کو جو موسیٰ علیہ السلام کی امت کے نبی تھے زندہ نہیں کر سکو گے اور اگر وہ تمہارے خیال میں آسمان پر بیٹھے ہیں تو ہر گز تمہیں تو فیق نہیں ملے گی کہ ان کو آسمان سے اتار کر دکھا دو۔نسلاً بعد نسل تم ان کا انتظار کرتے رہو مگر خدا کی قسم تمہاری یہ حسرت کبھی پوری (خطبہ جمعہ 7 اپریل 1985 لنڈن۔و پمفلٹ۔آسان فیصلہ ) نہیں ہوگی۔“ اس بارہ میں امام جماعت احمدیہ کے مذکورہ بالا خطاب میں تمام دنیا کے معاندین کو جو چیلنج دیا گیا تھا، آج تک ان لوگوں کو قبول کرنے کی توفیق نہیں مل سکی۔وہ چیلنج یہ تھا کہ اگر پرانے عیسی نے ہی امت کی رہنمائی کرنی ہے تو پورا زور لگاؤ۔دعائیں کرو، سجدوں میں گریہ زاری کرو اور جس طرح بن پڑے مسیح کو ایک دفعہ آسمان سے اتار دو تو پھر یہ جھگڑا ایک دفعہ ختم ہو جائے گا۔لیکن یاد رکھو! ناممکن اور محال ہے اور ہرگز ایسا نہیں ہوگا کہ جو شخص آسمان پر چڑھا ہی نہ ہو اور دیگر انبیاء کی طرح طبعی موت سے وفات پاچکا ہو ، وہ جسم سمیت آسمان سے نازل ہو جائے۔پس سر کو پیٹو آسمان سے اب کوئی آتا نہیں اس مذکورہ بالا چیلنج کو پورا کرنا ان لوگوں کے بس میں تھا ، نہ ہے، نہ ہوگا۔ان کو اس محرومی اور شکست کا احساس دلانے کے لئے اور یہ باور کرانے کے لئے کہ یہ کلیہ جھوٹے ہیں ، حضرت امام جماعت احمدیہ نے " عیسی ابن مریم کو آسمان سے اتارنے پر ایک کروڑ روپے کا انعام ایک اور چینج بھی دیا۔آپ نے 1994ء میں جلسہ سالانہ قادیان میں لنڈن سے خطاب کرتے ہوئے فرمایا " تم یہ یقین رکھتے ہو اور اپنے زعم میں کامل یقین رکھتے ہو کہ مسیح ابن مریم زندہ آسمان پر موجود ہیں اور آنحضرت لم اصدق الصادقین بیان فرماتے ہیں کہ ان کے اترے بغیر امت کے مسائل حل ہی نہیں ہوں گے۔وہ اتریں گے تو یہ ذلت عزتوں میں تبدیل ہوگی۔وہ اتریں گے تو مسلمانوں کو ایک عالمی غلبہ نصیب ہوگا۔۔۔پس جو اصل مسئلہ ہے اس کے حل کی طرف توجہ کرو۔اس صدی کے گذرنے میں اب چند سال باقی ہیں۔میں وعدہ کرتا ہوں کہ تم سب مولوی مل کر اگر کسی طرح صدی سے پہلے پہلے مسیح کو اتار دو تو تم میں سے ہر ایک کو ایک کروڑ روپیہ دوں گا۔صدی ختم ہو رہی ہے جلدی بڑی ہے اس لئے فیصلہ کرو۔“