شیطان کے چیلے

by Other Authors

Page 158 of 670

شیطان کے چیلے — Page 158

157 بھی جس کو بخاری نے بھی لکھا ہے محدث کا الہام یقینی او قطعی ثابت ہوتا ہے (براہین احمدیہ۔روحانی خزائن جلد 1 صفحہ 655) حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے اس آیت میں ولا محدث کے لفظ کا از خود ذ کر نہیں فرمایا بلکہ اس آیت کی ایک دوسری قرآت کا ذکر فرمایا ہے جو حضرت ابن عباس سے مروی ہے اور اسے تفسیر روح المعانی میں حضرت علامہ الوی نے اور تفسیر الدر المنظور میں حضرت امام جلال الدین سیوطی کے علاوہ متعدد کتب تفاسیر میں دیگر مفسرین نے بھی درج فرمایا ہے۔پس راشد علی کا حملہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام پر نہیں بلکہ حضرت ابن عباس پر ہے یا پھر ان مفسرین پر جن کی بزرگی کے یہ خود بھی قائل ہیں۔معزز قارئین! آپ نے ملاحظہ فرمایا کہ راشد علی نے جو الزام لگایا وہ جھوٹا تھا۔اس نے کہیں خود قرآنی آیات میں تحریف کی تحریض کی ہے تو کہیں سہو کتابت کو اور کہیں صحابی رسول حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ کی روایت کردہ قرآت کو تحریف کا نام دیا ہے اور اس طرح اپنے گستاخ صحابہ ہونے کا ثبوت دیا ہے۔راشد علی نے حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی اسی (80) سے زائد کتب میں سے صرف تین آیات ایسی پیش کی ہیں جنہیں وہ از راہ جہالت یا محض ظالمانہ طور پر تحریف قرار دیتا ہے۔اس کی پیش کردہ تینوں آیات کے متعلق ہم نے وضاحت کر دی ہے اور قطعی طور پر ثابت کر دیا ہے کہ یہ تحریف ہرگز نہیں۔قبل اس کے کہ ہم قارئین پر یہ واضح کریں کہ آیات قرآنیہ میں ایسی غلطیاں ہر مصنف سے ممکن ہیں اور اس کے ثبوت کے لئے چند نمونے مشتے از خروارے پیش کریں، یہ بتانا بھی ضروری سمجھتے ہیں کہ اپنے جس رسالہ میں راشد علی نے حضرت مسیح موعود علیہ السلام پر قرآن مجید میں تحریف کا الزام لگایا ہے ،1998ء میں شائع کیا گیا ہے جبکہ اس سے کئی سال قبل حضرت مرزا صاحب کی کتب میں ایسی آیات جن میں کتابت کی غلطی ہوئی تھی ، ان کی تصحیح کر لی گئی تھی اور اس کے بعد وہ درست شکل میں تحریر ہیں۔پس اس درستی کے بعد اس کا شور و غوغا اس کی بددیانتی کا واضح ثبوت ہے۔اب قارئین کی تسلی کے لئے چند نمونے تحریر کئے جاتے ہیں تا کہ انہیں یہ علم ہو سکے کہ ایسی غلطیاں ہر جگہ ہوتی ہیں۔ملاحظہ ہو۔1 - حضرت مجد دالف ثانی رحمۃ اللہ علیہ اپنے مکتوبات میں لکھتے ہیں :