شیطان کے چیلے — Page 154
153 ہے وہ اس کے غیر کو دی جائے اور حضرت مسیح علیہ السلام کو واقعی خالق یقین کیا جائے۔درحقیقت ہمارے مخالفین کی نظر میں ہمارا یہی جرم ہے کہ ہم اس بات کو توحید کامل کے خلاف سمجھتے ہیں اور اسی کے باعث ہم اُن اصحاب کی نظروں میں مورد عتاب ہیں جو حضرت مسیح علیہ السلام کے متعلق غالیانہ خیالات رکھتے ہیں۔افسوس تو یہ ہے کہ اس معجزہ میں غلو کر کے یہ لوگ نصاری سے بھی چار قدم آگے نکل گئے ہیں۔تمام انا جیل کو پڑھ جائیں لیکن آپ وہاں یہ معجز حقیقی پرندوں کی پیدائش کا کہیں نہ دیکھیں گے۔اگر یہ واقعہ تھا تو کیا ممکن تھا کہ انجیل نولیس مزید مبالغہ کی چادر چڑھا کر اس کو ذکر نہ کرتے؟ ان کا ذکر نہ کرنا صاف دلالت کرتا ہے کہ یہ پرندے حقیقی پرندے نہیں تھے یا تو روحانی پرندے مراد ہیں یا مجازی۔کما مر۔حضرت مسیح موعود علیہ السلام فرماتے ہیں کیوں بنایا ابن مریم کو خدا سنّت اللہ سے وہ کیوں باہر رہا ہے وہی اکثر پرندوں کا خدا اس خدا دانی پہ تیرے مرحبا مولوی صاحب ! یہی تو حید ہے سچ کہو کس دیو کی تقلید ہے؟“ (3) تحریف قرآن کا الزام چھلنی کیا بولے جس میں بہتر سو چھید ) لفظی تحریف : راشد علی نے اپنے رسالہ ”Ghulam Vs Master “ میں حضرت مسیح موعود علیہ السلام پر قرآن کریم میں لفظی تحریف کا الزام لگایا اور اس کے ثبوت کے طور پر تین آیات پیش کی ہیں۔عملاً تو اس کا یہ اعتراض ( نعوذ باللہ خدا تعالیٰ پر ہے کہ اس نے تو حفاظت قرآن کا قطعی فیصلہ اور حتمی وعدہ فرمایا تھا مگر اس میں حضرت مرزا صاحب نے (نعوذ باللہ ) تحریف کر دی ہے اور وہ وعدہ حفاظت ( نعوذ باللہ ) پورا نہیں ہوا۔ہمارے نز دیک تو را شد علی کا دعویٰ جھوٹا ہے بلکہ کلیہ جھوٹا ہے اور خدا تعالیٰ کا وعدہ بہر حال سچا اور تا قیامت قائم رہنے والا ہے۔کسی کی مجال نہیں کہ اس الہی وعدہ کی طرف ٹیڑھی آنکھ کر کے بھی دیکھ سکے۔حضرت مسیح موعود