شیطان کے چیلے — Page 155
علیہ السلام فرماتے ہیں: 154 قرآن کا ایک نقطہ یا شعشہ بھی اولین اور آخرین کے مجموعی حملہ سے ذرہ سے نقصان کا اندیشہ نہیں رکھتا۔وہ ایسا پتھر ہے کہ جس پر گرے گا اس کو پاش پاش کر دے گا اور جو اس پر گرے گا وہ خود پاش پاش ہو جائے گا۔آئینہ کمالات اسلام۔روحانی خزائن جلد 5 صفحہ 257 حاشیہ ) اس تمہید کے بعد ہم یہ واضح کر دینا ضروری سمجھتے ہیں کہ کتابت کی غلطیاں کسی بھی ضابطے کے تحت تحریف نہیں کہلا تھیں۔یہ بات علمائے فن کے مسلمہ اصولوں میں سے ہے۔تحریف کرنے والا اگر اصل متن کے الفاظ کو جانتے بوجھتے ہوئے تبدیل کرے اور پھر تبدیل کردہ الفاظ کے مطابق اپنا عقیدہ یا موقف بنائے تو وہ تحریف کہلاتی ہے۔اس لئے کسی بھی کتاب یا تحریر میں خصوصا الہی کتب میں تحریف ایک بڑا گناہ ہے۔علاوہ ازیں یہ بھی ایک حقیقت ہے کہ اُردو کے کا تب عموماً عربی زبان اور علم الاعراب سے ناواقف ہوتے ہیں اس لئے اگر ان کی کتابت کی غلطیاں ہوں اور باوجود سواحتیاط کے پروف ریڈنگ میں بھی وہ نہ پکڑی جاسکیں، انہیں تحریف قرار دینا سخت نا انصافی ہی نہیں صریح زیادتی بھی ہے۔حضرت مرزا صاحب کی کتب میں بھی معدودے چند جگہ کتابت کی غلطیاں رہ گئیں لیکن کسی ایک جگہ بھی یہ نہیں ہوا کہ ترجمہ اصل آیت کے مطابق نہ تھا اور نہ ہی کبھی ایسا ہوا کہ کسی جگہ آپ کا استدلال اصل آیات کے مخالف تھا۔دوسرے یہ کہ وہی آیت جس پر تحریف کا الزام دھرا گیا جب اسی کتاب میں دوسری جگہ یا کسی اور کتاب میں درج کی گئی تو بالکل درست ہیچ اور اصل الفاظ میں درج کی گئی۔مزید برآں یہ کہ جب کبھی بھی علم ہوا کہ کسی جگہ سہو کتابت ہوئی ہے تو اگلے ایڈیشن میں اس کو درست کر دیا گیا۔ضرور ہے۔پس ایسی صورت میں کتابت کی کسی غلطی کو تحریف قرار دینا اخفائے حق تو ہے ہی مگر کذب صریح بھی اس وضاحت کے بعد ہم اب ان آیات کا ایک ایک کر کے جائزہ لیتے ہیں جو راشد علی نے بطور اعتراض کے تحریر کی ہیں۔وہ لکھتا ہے :