شیطان کے چیلے — Page 149
148 ہے جس کو پیش کر کے ہم ہر ایک ملک کے آدمی کو خواہ ہندی ہو یا پارسی یا یورپین یا امریکن یا کسی اور ملک کا ہو ملزم وساکت ولا جواب کر سکتے ہیں۔وہ غیر محدود معارف و حقائق وعلوم حکمیہ قرآنیہ ہیں جو ہر زمانہ میں اس زمانہ کی حاجت کے موافق کھلتے جاتے ہیں اور ہر ایک زمانہ کے خیالات کا مقابلہ کرنے کے لئے مسلح سپاہیوں۔کی طرح کھڑے ہیں۔کھلا کھلا اعجاز اس کا تو یہی ہے کہ وہ غیر محدود معارف و دقائق اپنے اندر رکھتا ہے۔جو شخص قرآن شریف کے اس اعجاز کو نہیں مانتاوہ علم قرآن سے سخت بے نصیب ہے۔ومن لم يومن بذلك الاعجاز فوالله ما قدر القرآن حق قدره وما عرف الله حق معرفته وما وقر الرّسول حق (ازالہ اوہام۔روحانی خزائن جلد 3 صفحہ 255 تا 257) توقیره“ یہ حقیقت ہے کہ کتاب 'ازالہ اوہام میں اور نہ ہی کسی اور کتاب میں کی جگہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے یہ فرمایا ہے کہ قرآن کریم میں مذکور منجزات از نوع مسمریزم ہیں۔آپ کی طرف ایسی بات منسوب کرنا راشد علی اور اس کے پیر کا کھلا کھلا جھوٹ ہے۔ہاں حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے جہاں حضرت عیسی علیہ السلام کے معجزات کا ذکر فرمایا ہے وہاں ان معجزات کی ظاہری و باطنی دونوں تو جیہات بیان فرمائی ہیں۔چونکہ عامتہ المسلمین حضرت عیسی علیہ السلام کو خدائی صفات کا مالک قرار دیتے ہوئے ان کو پرندوں کا خالق مانتے ہیں اور ان کے معجزات کی ظاہری صورت پر ہی ایمان رکھتے ہیں اس لئے حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے ان کو ان کی غلطی سے آگاہ کرنے کے لئے ان معجزات کی ایک ایسی توجیہ فرمائی جو شرک کے خیالات سے دور اور عقل کے قریب تر ہے۔حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے ان معجزات کو ظاہری صورت کے اعتبار سے مسمریزم کے عمل سے مشابہ قرار دیا ہے۔چونکہ راشد علی اور اس کے پیر کو ابلیس کی پیروی اور تلبیس کی مہارت حاصل ہے اس لئے انہوں نے حضرت مسیح موعود علیہ السلام پر جھوٹا الزام یہ لگا دیا کہ گویا آپ نے (نعوذ باللہ ) یہ کہا ہے کہ قرآن کریم میں مذکور مجزات از نوع مسمریزم ہیں۔راشد علی اور اس کے پیر کے اس فعل پر ہم لعنة الله علی الکاذبین کے سوا کیا کہہ سکتے ہیں؟ جہاں تک حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی بیان فرمودہ تو جہیہ کا تعلق ہے تو ہم اس مضمون کو پوری تفصیل کے ساتھ ہدیہ قارئین کریں ہیں تا کہ حق کھل جائے۔امر واقع یہ ہے کہ جب حضرت عیسی علیہ السلام مبعوث ہوئے اس وقت یہود میں طب اور دیگر