شیطان کے چیلے

by Other Authors

Page 54 of 670

شیطان کے چیلے — Page 54

54 آپ اپنے ہاتھ کی انگلی سے اپنے آنسو پونچھتے جاتے تھے۔حضرت نانا جان کی بات سن کر فر مایا:۔یہ تو ٹھیک ہے اور ہماری بھی دلی خواہش ہے مگر میں سوچا کرتا ہوں کہ کیا میں وو 66 آنحضرت علیہ کے مزار کو دیکھ بھی سکوں گا۔“ (سیرت طیبہ۔از حضرت مرزا بشیر احمد رضی اللہ عنہ۔مطبوعہ نظارت اشاعت ربوہ 1960ء) یہ ایک خالصہ گھریلو ماحول کی بظاہر چھوٹی سی بات ہے لیکن اگر غور کیا جائے تو اس میں اُس اتھاہ سمندر کی طغیانی ہر یں کھیلتی ہوئی نظر آتی ہیں جو عشق رسول سے حضرت مسیح موعود کے قلب صافی میں موجزن تھا۔حج کی کس بچے مسلمان کو خواہش نہیں مگر ذرا اس شخص کی بے پایاں محبت کا اندازہ لگاؤ جس کی روح حج کے تصور میں پروانہ وار رسول پاک ﷺ ( فدا نفسی) کے مزار پر پہنچ جاتی ہے اور وہاں اس کی آنکھیں اس نظارہ کی تاب نہ لا کر بند ہونی شروع ہو جاتی ہیں۔اور ان سے تڑپتے ہوئے آنسو چھل اچھل پڑتے ہیں۔ایسے عاشق صادق کی طرف ایسی گستاخی کی بات منسوب کرنا راشد علی کا فسق اور افتراء ہے اور رسول اللہ ﷺ کی شان میں حد درجہ کی گستاخی ہے۔خدا تعالیٰ خود ہی ایسے لعنتی شیطان سے نیٹے۔(9) اسلام پر تنقید اور اسے لعنتی ،شیطانی اور قابل نفرت قرار دینا را شد علی نے حضرت مسیح موعود علیہ السلام پر ایک گھناؤنا الزام یہ بھی لگایا ہے کہ نعوذ باللہ آپ نے اسلام کو صرف گہری تنقید کا نشانہ ہی نہیں بنایا بلکہ اسلام کو منتی ، شیطانی اور قابل نفرت بھی قرار دیا ہے۔اپنے الزام کو ثابت کرنے کے لئے اس نے حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی بعض تحریریں پیش کی ہیں۔چونکہ ان میں کوئی بات قابلِ اعتراض نہیں اس لئے بعض جگہ خود قو میں ڈال کر حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے مضمون کو اپنے خود ساختہ معنے پہنانے کی کوشش کی ہے اور بعض جگہ ادھوری عبارت تحریر کر کے غلط مطلب نکالنے کی