شیطان کے چیلے

by Other Authors

Page 53 of 670

شیطان کے چیلے — Page 53

53 53 صلى الله حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے مذکورہ بالا عبارت میں ہجرت کے وقت آنحضرت ﷺ کے غارِ ثور میں چھپنے کا ذکر فرمایا ہے۔غار ثور کی حالت کو روضہ اطہر سے ملانا ایک ایسا فسق اور دجل ہے اور آنحضرت ﷺ کی شان میں ایسی گستاخی ہے کہ جو ایک متعفن اور مسخ شدہ لعنتی دماغ شخص راشد علی ہی کر سکتا ہے۔رسول اکرم ﷺ سے ذرہ بھر محبت کرنے والا شخص روضہ مبارک کے بارہ میں ایسا تصور بھی ذہن میں نہیں آنے دیتا۔پس لعنت ہے ایسے شخص پر جس نے ایسی بات کی۔اسے کچھ تو حیا کرنی چاہئے تھی۔اسے بغض اگر حضرت مسیح موعود علیہ السلام سے ہے تو اس کا بدلہ رسول اللہ ﷺ کے روضہ مبارک پر گندا چھال کر کیوں لے رہا ہے؟ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے دل میں روضہ مبارک کا تقدس اور اس کی فضیلت ایسی عظیم تھی کہ اس کی مثال ممکن نہیں۔آپ فرماتے ہیں : ان قبر نبينا صلى الله عليه واله وسلّم روضة عظيمة من روضات الجنة وتبوء كلّ ذروة الفضل والعظمة واحاط كل مراتب السعادة والعزة (ستر الخلافہ۔روحانی خزائن جلد 8 صفحہ 344) ترجمہ۔ہمارے نبی ﷺ کی قبر یقیناً جنت کے باغات میں سے ایک عظیم باغ ہے وہ ہر فضل اور عظمت کی چوٹی کا مقام ہے اور اس نے سعادت اور عزت کے ہر مرتبہ کا احاطہ کیا ہوا ہے۔آنحضرت ﷺ کے وطن کی یاد اور آپ کے روضہ مبارک کا ذکر ، حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے دل کو غم بھری یاد سے اور آنکھوں کو ہجر کے آنسوؤں سے بھر دیتی تھی۔چنانچہ آپ کی نظم ونثر ایسی مثالوں سے لبریز ہے۔صرف ایک واقعہ ملاحظہ فرمائیں۔آپ کی بیٹی حضرت نواب مبار کہ بیگم رضی اللہ عنہا بیان فرماتی ہیں۔بالکل گھریلو ماحول کی بات ہے کہ ایک دفعہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی طبیعت کچھ ناساز تھی اور آپ گھر میں چارپائی پر لیٹے ہوئے تھے اور حضرت اماں جان نور الله مرقدها اور ہمارے نانا جان یعنی حضرت میر ناصر نواب صاحب مرحوم بھی پاس بیٹھے تھے کہ حج کا ذکر شروع ہو گیا۔حضرت نانا جان نے کوئی ایسی بات کہی کہ اب تو حج کے لئے سفر اور رستے وغیرہ کی سہولت پیدا ہورہی ہے حج کو چلنا چاہئے اس وقت زیارت حرمین شریفین کے تصور میں حضرت مسیح موعود کی آنکھیں آنسوؤں سے بھری ہوئی تھیں اور