شیطان کے چیلے — Page 55
55 تلیس کی ہے۔وہ اصل عبار تیں ہم آگے جا کر پیش کریں گے۔بہر حال یہ ایک لعنتی ، شیطانی اور قابل نفرت جھوٹا الزام ہے جو اس نے حضرت مسیح موعود علیہ السلام پر لگایا ہے۔اس کا جامع اور دو ٹوک جواب تو ہماری طرف سے یہی ہے کہ لعنة الله علی الکاذبین لیکن ایسا نہ ہو کہ دھو کہ شیطاں کسی کو دے دے۔ہم اس کے اس اعتراض کا منہ توڑ جواب تفصیل کے ساتھ پیش کرتے ہیں۔حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے جہاں ایسی تنقید کی ہے وہ اسلام اور دین محمدی پر نہیں بلکہ مسلمانوں کے ان غلط تصورات اور بگڑے ہوئے عقائد پر کی ہے جن کا اسلام سے کوئی تعلق نہیں۔آپ نے یہ تنقید اسلام کی عظمت اور اس کی شان کو ظاہر کرنے کے لئے کی ہے۔جہاں تک امت محمدیہ کی اکثریت کے بگڑ جانے اور اس کے باہم اختلافات کا شکار ہو جانے کا تعلق ہے تو اس کے متعلق پیشگوئیاں خود احادیث نبویہ میں موجود ہیں۔اسلامی شریعت تو بہر حال قیامت تک محفوظ رہے گی۔وہ نہ زائل ہو سکتی ہے نہ اس پر زوال آ سکتا ہے۔لیکن اس شریعت کے ماننے والوں کے گمراہی سے محفوظ ہونے اور فرقہ بندی سے بچے رہنے کی خبر کہیں موجود نہیں۔افسوس تو یہ ہے کہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام اگر مسلمانوں کو ان کے گمراہ کن اور بگڑے ہوئے عقائد سے آگاہ کریں تو راشد علی اور اس کے پیر کے نزدیک یہ چیز اسلام کو لعنتی ، شیطانی اور قابل نفرت بنا دیتی ہے۔حالانکہ ان باتوں کی طرف تو ہمارے آقا و مولیٰ حضرت محمد مصطفی نے بڑے واضح اور غیر مبہم الفاظ میں آگاہ فرما چکے ہیں۔چنانچہ سورہ جمعہ کی آیت وَآخَرِينَ مِنهُم لَمَّا يَلْحَقُوا بِھم کی تشریح میں آپ نے فرمایا۔ا۔"لو كان الايمان معلقاً بالثّريا لناله رجل او رجال من هولاء “ ( بخاری کتاب التفسیر تفسیر سورة الجمعه ) ترجمہ:۔اگر ایمان زمین سے پرواز کر کے ثریا ستارے تک بھی جا پہنچا تو اس قوم میں سے ایک شخص یا بعض اشخاص اسے وہاں سے بھی حاصل کر لیں گے۔دو ۲۔یـاتـی عــلـى الناس زمان لا يبقى من الاسلام الا اسمه ، ولا يبقى من القرآن الَّا